منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

راحیل شریف جب آرمی چیف تھے تو ایک دن انہوں نے نواز شریف اور چوہدری نثار کو بلا کر ایک نقشہ دکھایا جس میں۔۔ پاکستان کیخلاف امریکہ، انڈیا اور ایران کا خوفناک منصوبہ بے نقاب

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی ضیا شاہد نے چند دن قبل نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کی سالمیت کو خطرات کا معاملہ اس وقت سے جڑا ہے جب ایران کی جانب سے پاکستان کے اندر کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی اور بھارت کہہ رہا تھا کہ سرجیکل سٹرائیک کرینگے۔ چوہدری نثار نےبھی ملک کو درپیش خطرات کا ذکر اپنی پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا وہ اس وقت کی صورتحال کی طرف ایک اشارہ تھا۔ اس وقت جنرل راحیل شریف

آرمی چیف تھے ان کی درخواست پر اجلاس ہوا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور چوہدری نثار جو اس وقت وزیر داخلہ تھے شامل تھے۔ سابق آرمی چیف نے کچھ نقشے اور رپورٹس دکھا کر خدشات کا اظہار کیا تھا کہ ملکی سالمیت کو شدید خطرہ ہے، راحیل شریف نے 3مثالیں دے کر اس وقت کے وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کو معاملے کی حساسیت اور سنگینی کا احساس دلانے کی کوشش کی تھی۔ جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ انڈیا و ایران کی طرف سے سانحہ کار ساز، سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور اور جی ایچ کیو حملے جیسی کارروائی کا خدشہ ہے۔ پوری دنیا میں امریکن سپانسر شپ کے ساتھ ایک فضا قائم کی جائے گی جس کی وجہ سے اس قسم کے اور بہت سے واقعات ہونگے۔ پاکستان کے اندر دہشتگردی کی اتنی کارروائیاں ہوں گی کہ دو تین ہفتے کے اندر اندر اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے گا اس میں کہا جائے گا کہ پاکستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، خطرہ ہے کہ ایٹمی اثاثے دہشتگردوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ یہ منصوبہ بن چکا تھا اور اجلاس میں اسی پر بات ہوئی۔ اس اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ سلامتی کونسل یو این او کے زیر اہتمام ایک امن فورس پاکستان بھیجے گی جو صرف ہمارے ایٹمی اثاثوں کی نگرانی کرے گی۔ فیصلہ یہ کیا جائے گا کہ امن فورس کی

سربراہی کسی مسلمان ملک کے سپردکردی جائے گی۔ اس کیلئے پہلے ایران و مصر کا انتخابات کیا گیا پھر کہا گیا کہ کوئی مصری جرنیل سربراہ ہونگے جو بظاہر مسلم ممالک کے لےکن امریکہ کے اشاروں پر چلیں گے۔ جب امریکہ آجائے گا تو پوری دنیا میں پروپیگنڈا کیا جائے گا کہ آخر اس کی حفاظت کب تک کرینگے۔ لہٰذا اس کو ناکارہ بنا دیتے ہیں،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…