جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جا سکتا ہے، صدر ممنون کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ چیف جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی روح کے منافی کسی بھی قانون اور ترمیم کو دیکھ سکتی ہے ،شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم ہیں انہیں کسی کی بیساکھی اور مدد سے نہیں چلنا چاہیے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور گورننس نہیں لائی جاتی تو صدر مملکت انہیں دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں ،موجودہ چیف

الیکشن کمشنر بشمول تمام ممبران ایماندار ہیں ، عمران خان جو معاملات اٹھاتے ہیں ان کا حل بھی تو بتائیں لیکن وہ خود اسمبلی میں تو آتے نہیں۔ ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی ترامیم کو اور نظر سے بھی دیکھا جائے جس میں سیاسی جماعتوں نے حکومت سے ہاتھ ملایا ہے اور اس کے پیچھے یہ چیز بھی کارفرما ہو سکتی ہے کہ ہمارے لیڈر بھی نا اہل ہو جائیں گے اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف نے نیب عدالت میں پیش ہو کر کسی پر احسان نہیں کیا بلکہ وہ اپنے بچائو کیلئے نیب عدالت کے سامنے پیش ہوئے ۔اگر وہ پیش نہ ہوتے تو نہ صرف قید کی سزا ہوتی بلکہ جائیداد بھی قرق ہوتی لیکن میں ان کے اس اقدام کو سراہتا ہوں ۔ محترمہ بینظیر بھٹو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ عدالتوں میں آتی تھیں اور آصف علی زرداری عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں۔ پرویز مشرف بزدل آدمی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ بیرون ملک نہ بھاگتا ۔ جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ہم صدارتی نظام کے نعرے کے ساتھ انتخابات میں جائیں گے اور اس پر دلائل سے بات کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ ہماری جماعت اس کی حامی ہے کہ کسی بھی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے اور ہم موجودہ حکومت کے لئے بھی اس طرح کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کرپشن کرنے والوںکا بلا تفریق کڑا احتساب ہونا چاہیے اور عوام کو بھی

چاہیے کہ وہ شعبدہ بازوں اور سبز باغ دکھانے والوں کے پیچھے نہ جائیں۔ انہوںنے کہا کہ شاہد خاقان عباسی ایک ملک کے وزیر اعظم ہیں اگر وہ بیساکھی اور کسی کی مدد سے چلیں گے تو یہ اچھا اقدام تصور نہیں ہوگا۔ انہوںنے اقوام متحدہ میں بھرپور موقف اپنایا اور انہیں عوام کی طرف سے اس پر داد ملی ہے ۔ اگر وہ کسی کے سہارے چلتے ہیں اور گورننس نہیں لائی جاتی تو پھر آئین کے مطابق صدر انہیں دوبارہ اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں ۔ انہوںنے عمران خان کی طرف سے الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کے اظہار کے سوال کے

جواب میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر بشمول تمام ممبران ایماندر ہیں، چیف الیکشن کمشنر تو عدلیہ میں میر ی ٹیم کے اہم ممبر تھے اور انہیں عدلیہ میں ایڈ منسٹریٹو کا وسیع تجربہ ہے۔ عمران خان جن معاملات کو سامنے لاتے ہیں اس کا حل بھی تو بتائیں ۔ جب پارلیمنٹ میں ترامیم ہو رہی تھیں اور وزیر اعظم کے عہدے کا انتخاب تھا تووہ خود تو اسمبلی آئے نہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…