منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

انٹیلی جنس بیورو کا خط دیکھ کر اہم رکن قومی اسمبلی کے دما غ کی شریان پھٹ گئی،اس خط میں کیا لکھا ہواتھا؟ وفاقی وزیر کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 6  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ آئی بی کے جعلی خط کی تحقیقات ہونی چاہیے، ڈی جی آئی بی نے کہا ہے کہ خط جعلی ہے، اس خط کی وجہ سے ایک رکن پارلیمنٹ کو برین ہیمبرج ہو گیا ہے، پمز ہسپتال کے حالات اچھے نہیں ہیں، یہ بڑا ہسپتال ہے، اس کی مینجمنٹ پر توجہ دینی چاہیے، فاٹا اصلاحات پر کام جاری ہے۔جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم

خان درانی نے کہا کہ ڈی جی آئی بی نے میڈیا کے ذریعے کہا ہے کہ خط جعلی ہے، درانی نے کہا کہ جعلی خط کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ کس نے تیار کیا، کابینہ میں بھی یہ مسئلہ پیرزادہ صاحب نے اٹھایا تھا، جس پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں تحقیقات کرا رہا ہوں۔ اکرم خان درانی نے کہا کہ اس مسئلے کو ایوان میں اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی، اس خط کی وجہ سے ایک رکن پارلیمنٹ کو برین ہیمبرج ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال کے حالات اچھے نہیں ہیں، یہ بڑا ہسپتال ہے، اس کی مینجمنٹ پر توجہ دینی چاہیے، پمز کے حالات پر ایکشن لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سینیٹ میں ہماری ترمیم کی مخالفت کی، ان سب جماعتوں سے پوچھنا چاہیے کہ جب بل ٹھیک ہو رہا تھا تو انہوں نے مخالفت می ووٹ کیوں دیا، آئی ایس پی آر کی طرف سے اچھا بیان آیا ہے کہ ہم قانون کے مطابق ڈیوٹی دیں گے۔ اکرم خان درانی نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر کام جاری ہے، حکومت نے فیصلہ کیا کہ فاٹا کے اندر ترقیاتی کام کریں گے اور عوامی رائے کے مطابق فاٹا کا فیصلہ کریں گے۔واضح رہے کہ ن لیگ کے اہم رہنمااور حلقہ این اے 91جھنگ سے رکن قومی اسمبلی نجف عباس کے دماغ کی شریان پھٹ گئی ہے اور وہ تشویشناک حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…