منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مارشل لاء کا امکان، عمران خان نے واضح اعلان کردیا

datetime 6  اکتوبر‬‮  2017 |

پشاور(این این آئی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف اداروں پر حملوں کے لیے (ن )لیگ کو استعمال کررہے ہیں،فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں، فاٹا کے انضمام کیلئے احتجاج بھی کرنا پڑا تو کریں گے۔پشاور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ حکومت کے پاس فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں،

فاٹا کے انضمام کے لیے احتجاج بھی کرنا پڑا تو کریں گے،قبائلی علاقوں میں کوئی نظام نہیں،وہاں لوکل گورنمنٹ سسٹم کی ضرورت ہے۔ قبائلی علاقوں کے عوام چاہتے ہیں کہ ان کی کوئی آواز ہو۔ انضمام کے بعد فاٹا کے نمائندے صوبائی اسمبلی میں آئیں گے۔ فاٹا کا انضمام سال دوہزار اٹھارہ میں شروع ہو جانا چاہیے، فاٹا کے انضمام کا موقع ضائع کیا جارہاہے ،قبائلی علاقے کے حالات بہت خراب ہیں۔عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ سسٹم فاٹا کے انضمام کیلئے بہترین ہے،پولیٹیکل ایجنٹ کی تعیناتی کیلئے کروڑوں روپے لیے جاتے ہیں،فاٹا میں اسٹیٹس کو بچانے کیلئے پرانا نظام چلایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ فاٹا سیکریٹریٹ کرپشن کا اڈا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے فضل الرحمان اوراچکزئی کی وجہ سے معاملہ پیچھے دھکیل دیا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری فاٹاکے عوام کیلئے اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مفلوج ہوچکی ہے،نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ نوازشریف اپنی محنت کی چوری بچانے کیلئے تصادم کی راہ پرچل رہے ہیں،نوازشریف عدلیہ اورفوج کیخلاف بیانات داغ رہے ہیں،وفاقی حکومت اس وقت نااہل وزیراعظم کوبچانے میں مصروف ہے اور نااہل وزیرا عظم کوپروٹوکول دینے میں لگی ہوئی ہے،عمران خان نے کہا کہ مارشل لاء کی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی،معیشت کا حال برا ہے، درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں۔

پریس کانفرنس سے قبل صحافیوں نے پریس کلب کے فنڈ جاری نہ کرنے پراحتجاجی مظاہرہ کیا ،جس پر عمران خان نے کہا کہ صحافیوں کے مطالبات کے لئے پرویزخٹک سے بات کروں گا جووعدے کیے گئے ہیں انہیں پورا کیا جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…