منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

رینجرز کی جانب سےعدالت کا گھیرائو، وزرا کوروکے جانے کا معاملہ، وزیراعظم نے دو ٹوک اعلان کر دیا

datetime 5  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نیب میں نوازشریف کی پیشی کے موقع پرپیش آئے واقعہ کی تہہ تک پہنچنا ضروری ،رینجرزکمانڈربریگیڈیئر آصف سمیت سب سے پوچھنا ہوگا اور قانون کے مطابق کاروائی ہوگی ۔نیب قانون کالا قانون، اسحاق ڈار پر مقدمے کی کوئی حقیقت نہیں ، شہباز شریف سے پوچھنا پڑے گا کہ اپنے خطاب میں انہوں نے کن غلط مشورے دینے والے مشیروں کی طرف اشارہ کیا

کسی نے ڈومور کرنے کا نہیں کہا اور نہ ہی ہمیں مزید ڈومور کرنے کی ضرورت ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی، امریکہ پر واضح کر دیا کہ افغان مسئلے کا حل جنگ نہیں مذاکرات میں ہے، گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی میزبانی کرنے کیلئے تیار ہوں ، چیئرمین نیب کیلئے 20ناموں پر اپوزیشن لیڈر کےساتھ مشاورت کر چکے، چاہتے ہیں پی ٹی آئی بھی نام دے تاکہ سب کی مرضی سے متفقہ چیئرمین لگائیں ، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کےسینئر اینکر ، معروف کالم نگار و صحافی جاوید چوہدری کو انٹرویو میں اظہار خیال۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کےسینئر اینکر ، معروف کالم نگار و صحافی جاوید چوہدری کودئیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ نوازشریف کی پیشی کے موقع پر پیش آنے والے واقعہ کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے، رینجرزکمانڈربریگیڈیئر آصف سمیت سب سے پوچھنا ہوگا اور قانون کے مطابق کاروائی ہوگی، جج اور رینجرز کمانڈرز سے کچھ معلوم نہیں ہو سکا، ، عدالت کے کمرے کبھی بند نہیں ہوتے ، اگر سیکیورٹی کے مسائل ہوں تو صرف لوگوں کی آمد کو محدود کیا جاتا ہے ، ریاست میں کوئی ریاست نہیں ہے،وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس وقت حالات کے مطابق بیان دیا۔ اسحاق ڈار پاکستانی

معیشت کی بہتری کیلئے کوشاں ہیں اور 12گھنٹے اپنے دفتر میں کام کرتے ہیں اگر ایسا نہ ہو تو ان سے استعفیٰ لے لیا جائے، اسحاق ڈار پر مقدمے کی کوئی حیثیت نہیں بحیثیت وزیراعظم انہیں مکمل سپورٹ کروں گا ، وہ 2018تک وزیر خزانہ رہیں گے۔ وزیراعظم نے شہباز شریف سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف سے پوچھنا پڑے گا کہ ن لیگ

کے جنرل کونسل اجلاس کے موقع پرانہوںنے خطاب میں کن مشیروں کی طرف اشارہ کیا جو غلط مشورے دے رہے ہیں، مجھ سے ابھی تک شہباز شریف نے کوئی نام شیئر نہیں کیا لیکن میں نے خود سے مشیروں کوبلا کر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو میاں نواز شریف کوکوئی مشورہ ہی نہیں دیا۔ امریکہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی نے ڈومور

کرنے کا نہیں کہانہ ہی ہمیں مزید ڈومور کرنے کی ضرورت ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل سے لڑی ، کسی نے کوئی ڈالرز نہیں دئیے۔ امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ افغانستان میں امن کیلئے جنگ نہیں مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں۔نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کر لیامگر اسے دل سے تسلیم نہیں کر سکتے، یہ فیصلہ بالکل اسی طرح ہے جیسے

ذوالفقار علی بھٹو کو سپریم کورٹ نے پھانسی دے دی اس فیصلے پر عمل درآمد تو کر لیا گیا مگر اسے آج تک پوری قوم نے تسلیم نہیں کیا ۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب قانون کالا قانون ہے ، نیب چیئرمین کیلئے مشاورت کی جا رہی ہےبیس سے زائد ناموں پر اپوزیشن لیڈر کیساتھ مشاورت جاری ہے، چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی بھی نام دے تاکہ سب کی مرضی سے

متفقہ چیئرمین نیب کی تقرری عمل میں لائی جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…