اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

یہ سب میری ماں کی دعا ہے

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

جوہرچوک سے رکشہ پر کلفٹن جانے کا اتفاق ہوا، رکشہ والے نے گاڑی کے شیشہ پر “یہ سب میری ماں کی دعا ہے” کا اسٹیکر آویزاں کررکھا تھا۔ دیکھ کر ہنسی آئی، پھر اس سے پوچھا کہ رکشہ چلانے کو اپنی والدہ کی دعا قرار دے رہے ہو، کیا یہ اتنی بڑی فضیلت ہے؟رکشہ والا مسکرا کربتانے لگا کہ صاحب میرا تعلق مظفر گڑھ سے ہے، والدکا حادثے میں انتقال ہوگیا تو سگے تایا نے مکان جائیداد پر قبضہ کرکے والدہ اور ہم چھے بہن بھائیوں کو گھر سےنکال دیا۔

ماں ہمیں اپنے بھائی کے پاس لے کر کراچی آگئی، چند دن بعد بیگم کے کہنے پر ماموں نے بھی معذرت کرلی تو ساتھ والے محلے میں بیٹھک کرائے پر لے کر والدہ نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا اور رات گئے تک سلائی مشین پر محلے والوں کےوالوں کے کپڑے سینا شروع کردئے، تعلیم کا تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے، اسی لئے چھوٹی عمر سے سبزی منڈی جانا شروع کردیا، سبزی اور پھلوں کی لوڈنگ انلوڈنگ کرواتے اور ٹوکری پر پھل فروٹ بیچتے نوجوان ہوئے، پھر کنڈیکٹری شروع کردی، اس فیلڈ میں استادوں اور ڈرائیوروں کی مار کھاتے کھاتےجوان ہوئے اور پھر کسی کا رکشہ چلانا شروع کیا، پیسے اکٹھے کئے،کمیٹی ڈالی، پھر قسطوں پر اپنا رکشہ لیا، اس کی قسطیں ختم ہوئیں تو دو رکشے قسطوں پر لئے اور بھائیوں کو بھی سبزی منڈی سے ہٹاکر ساتھ لگالیا۔ تینوں بھائی مل کر کماتے رہے، والدہ سے سلائی مشین چھڑوائی، چھوٹے بھائی کو پڑھاتے رہے، کہ جو ہم نہیں بن پائے ، اسے بنادیں،بھائی نے ایم بی اے کیا، اسے بینک میں نوکری مل گئی، اس نے جس ماہ بینک سے گاڑی لیز کروائی، اسی ماہ اپنی کولیگ سے شادی کی اور ہمیں چھوڑ کر چلا گیا، اب کبھی کبھار آتا ہے۔ ہم تین بھائی رکشہ چلاتے ہیں، دوبہنوں کی شادیاں کردی ہیں۔ میرے تین رکشے مزید ہیں، جو کرائے پر دے رکھے ہیں، سرجانی ٹاون میں گزشتہ برس اپنا چھوٹا سا گھر بنایا ہے، والدہ نے اپنی پسند سے میری شادی کردی ہے۔

ہم سب اکٹھے رہتے ہیں،اب ہم تینوں بھائیوں نے ایک پلاٹ تاڑرکھا ہے، اسے خرید کر اس پر ایک اورگھر بناکر اگلے دوسالوں تک دوسرے بھائی کی شادی کرنے کا سوچ رکھا ہے۔ چونکہ والدہ ساتھ رہتی ہیں اور ان کی دعائیں ساتھ ہیں تو امید ہے کہ اگلے دوسال میں چھوٹے بھائی کا گھر اور اسکی شادی دونوں ہوجائینگی۔ یہ سب ماں کی دعا نہ سمجھوں تو کیا ہے۔باقی کا سفر خاموشی میں کٹا اور میں سوچتا رہا کہ مجھے اپنی والدہ کی دعا کے باعث جتنا زیادہ اللہ پاک نے بنا محنت کے دے دیا، اس سے کہیں کم کسی کو ان تھک محنت کے بعد حاصل ہوا۔ اپنے ناشکرے پن پر ہزاربار توبہ استغفار کی۔آپ سے بھی گزارش ہے کہ کسی کی حیثیت کا مذاق مت اڑائیں، کیا پتا ، اس نے اس مقام تک پہنچنے کے لئے بھی اپنی ہڈیاں گلادی ہوں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…