اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

’’نواز شریف کے بعد عمران خان کابھی اقامہ‘‘ سینئر تجزیہ نگار کے تہلکہ خیز انکشافات!!

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے بنی گالہ اراضی کیس سے متعلق درخواست گزارکا مؤقف ہے کہ جب عمران خان نے اپنے گوشوارے داخل کئے تو اپنی جائیداد کی صحیح تفصیلات جمع نہیں کرائی تھیں۔ عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ جو فلیٹ انہوں نے خریدا وہ کیسے خریدا اور کیسے بیچا، بنی گالہ کی زمین کیسے خریدی۔ انہوں نے کہا جس

طرح نواز شریف کے اثاثوں کی سکروٹنی ہوتی رہی اور بالآخر ایک اقامہ دریافت ہوا، لگتا ہے کہ عمران خان کا بھی کوئی اقامہ دریافت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو زچ کرنے کی کوشش میں ایسی تفصیلات میں جا رہے ہیں کہ ہر کوئی بے ایمان ثابت ہو جائے۔ عمران خان کی کوشش ہے ہر دوسرا شخص کرپٹ ثابت ہو جائے۔ نواز شریف کے بچوں کی نظرثانی درخواست پر انہوں نے کہا اس کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آ رہا، یہ درخواست فل کورٹ کو سننی چاہیے۔ بنی گالہ اراضی کیس پرنمائندہ دنیا نیوز عمران وسیم نے بتایا کہ کیس میں سب سے زیادہ سوالات چیف جسٹس کی جانب سے پوچھے گئے۔ آج ججز کا موڈ جارحانہ تھا، اس سے قبل سماعتوں میں انہوں نے انتہائی محتاط انداز میں عمران خان کی نااہلی کیس کی سماعت کی۔ انہوں نے کہا پہلے عمران خان کہتے تھے کہ بنی گالہ کی اراضی خریدنے کیلئے انہوں نے جمائما سے قرض لیا تھا، اگر وہ اہلیہ سے قرض لے رہے تھے تو رقم براہ راست ان کے اکاؤنٹ میں آنی چاہئے تھی، بیچ میں نمائندہ راشد خان کیوں لایا گیا۔ دستاویزات سے لگتا ہے کہ عمران خان نے بنی گالہ کی جو اراضی خریدی وہ ٹرانزیکشن بے نامی تھی۔ انہوں نے کہا جس طرح نواز شریف کے اثاثوں کی سکروٹنی ہوتی رہی اور بالآخر ایک اقامہ دریافت ہوا، لگتا ہے کہ عمران خان کا بھی کوئی اقامہ دریافت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…