لاہور(این این آئی) پاکستان میں چین کے سفارتخانے کے بعد چین کی وزرات خارجہ کے ترجمان نے بھی ملتان میٹرو بس پراجیکٹ میں مبینہ کرپشن کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیانگ سومیں یابائیٹ ٹیکنالوجی کمپنی کے پاکستان میں کسی کمپنی یا فرد کیساتھ سرمایہ کے تبادلے کے اقتصادی روابط نہیں پائے گئے اورچین کی سکیورٹیز
ریگولیٹری کمیشن (سی ایس آر سی) نے ثبوت کیلئے متعلقہ پاکستانی حکام کی طرف سے کوئی لیٹرز بھی پیش نہیں کئے ہیں۔یہ بات چین کی وزارت خارجہ امور کے ترجمان جینگ شوانگ نے پریس بریفنگ کے دوران بتائی ۔ترجمان کا کہنا ہے کہ چین کی سکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن (سی ایس آر سی) جلد ہی یابائیٹ ٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف سکیورٹیز خلاف ورزیوں پر جرمانوں کا اعلان کرے گا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ سی ایس آر سی نے پاکستانی حکام کے تعاون سے فرم کیخلاف تحقیقات کی تھیں۔ پاکستان میں کسی کمپنی یا فرد کیساتھ سرمایہ کے تبادلے کے اقتصادی روابط نہیں پائے گئے۔ حکام کی طرف سے جعلسازی کی سرکاری تصدیق کے بعد یابائیٹ کمپنی کے شیئرز مارکیٹ پر حصص کی شرح گر کر 3.58 فیصد ہو گئی۔ چینی میڈیا کے مطابق 12 مئی کو سی ایس آر سی نے پہلے ہی اپنی ویب سائٹ پراعلان کیا تھا کہ وہ معلومات افشاء کرنے کی خلاف ورزی پر اس فرم کو 6 لاکھ یوآن (91785 امریکی ڈالر) جرمانہ کر رہا ہے اور فرم کے متعلقہ ایگزیکٹو کی تین سے پانچ سال یا بعض صورتوں میں عمربھر کیلئے ملکی مارکیٹوں میں ممانعت کردی جائے گی۔
مزیدبرآں سی ایس آر سی نے اعلامیہ میں کہا کہ 2015 ء اور ستمبر 2016ء کے درمیان بھی اس کمپنی نے تجارتی معاہدوں میں جعلسازی کی تھی۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان میں چین کے قائمقام سفیر لی جیان زا نے وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف کرپشن الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جعلی چینی کمپنی کے ذریعے رشوت لینے کے حوالے سے رپورٹس غلط ہیں، چینی حکومت مذکورہ کمپنی کے خلاف ایکشن لے چکی ہے۔ترجمان کے مطابق سی ایس آر سی نے مورخہ 12مئی کو ایک پبلک نوٹس جاری کیا،جس کے مطابق یابائیٹ ٹیکنالوجی لمیٹڈ نے اپنی آپریٹنگ آمدنی اور منافع میں ستمبر2015ء سے 2016ء میں من گھڑت(جعلی) بیرون ملک انجینئرنگ منصوبوں کے ذریعے اضافہ کیا۔سی ایس آر سی نے متعلقہ پاکستانی حکام کے ساتھ کمپنی کی تحقیقات کیں۔ اس کے مطابق کمپنی کی طرف سے نمایاں پاکستانی سیاستدانوں کی طرف سے ثبوت کے طور پر جمع کرائے گئے خطوط کو مستند نہیں مانا گیا۔ مزیدازاں چینی کمپنی اور کسی دوسری پاکستانی کمپنی یاکسی شخص کے درمیان معاشی تعلقات یا سرمائے کے بہاؤ کا ثبوت بھی نہیں ملا۔ سی ایس آر سی فراڈ میں ملوث کمپنی کو سزادے گی اور کچھ دنوں میں قانون کے مطابق سزا کے نتائج کو عوام کے سامنے لائے گی۔ آپ اس بارے میں سی ایس آر سی سے مزید پوچھ سکتے ہیں۔میں اس بات پر زور دوں گا کہ چین نے ہمیشہ اوورسیز چینی انٹرپرائزز کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے اور قواعد و ضوابط کیخلاف سرگرمیوں کی قانون کے مطابق تحقیقات اورسزا کی درخواست کی ہے۔ چین پاکستان کی مستحکم ترقی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کے ساتھ کام کیلئے تیار ہے۔