اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ایم کیو ایم کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر حملے کا مرکزی ملزم جامعہ کراچی کا طالبعلم عبدالکریم سروس صدیقی نکلا، ملزم عبدالکریم سروش جامعہ کراچی کے ریٹائرڈ پروفیسر کا بیٹا ہے، والد کی نشاندہی پرحساس ادارےکے گلستان جوہر اور مختلف جامعات کے ہاسٹلز پرچھاپے، بارہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر حملے کا مرکزی ملزم جامعہ کراچی کا طالبعلم عبدالکریم سروس صدیقی نکلا۔ عبدالکریم سروش جامعہ کراچی کے ریٹائرڈ پروفیسر کا بیٹا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عبدالکریم نے جامعہ کراچی سے بی ایس اپلائیڈ فزکس میں 2011 میں داخلہ لیا تھا اور 4 سالہ بی ایس پروگرام 7 سال میں بھی مکمل نہیں کرسکا۔ عبدالکریم اکثر غیر حاضر رہتا تھا اور پڑھائی میں کمزور تھا۔ حساس ادارے کے سربراہ نے شعبہ اپلائیڈ فزکس کے چیئرمین سے بھی ملاقات کی، جس میں عبدالکریم سے متعلق پوچھ گچھ کی گئی۔گزشتہ روز گلزارہجری میں کارروائی کے دوران دہشت گرد عبدالکریم کے گھر سے 20 سے زائد یوایس بیز برآمد ہوئیں، کچھ مائیکرو یو ایس بیز کو تعویز بنا کر چھپایا گیا تھا۔ملزم کے گھر سے 12 سے زائد لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ بھی ملے۔ کمپیوٹر اور یو ایس بیز میں موجود ڈیٹا کی ڈی کوڈنگ کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ملزم گزشتہ روز زخمی حالت میں فرار ہوگیا تھا۔عبدالکریم سروش کے والد کی نشاندہی پر گلستان جوہر اور مختلف جامعات کے ہاسٹلز پرچھاپے مارے گئے، جہاں سے بارہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ حراست میں لئے جانے والوں میں لیکچرار بھی شامل ہیں، چھاپے یونیورسٹی کے ہاسٹل اور جوہر کے فلیٹس میں مارے گئے۔
کراچی یونیورسٹی میں متعدد طلبہ کے دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث کی بناء پرانتظامیہ نے طلباء کا ریکارڈ اور ڈیٹا حساس اداروں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے،یونیورسٹی داخلے کے خواہشمند طلباء کے لیےمقامی تھانے کا کریکٹر سرٹیفکیٹ بھی جمع کرانے پر غورکر رہی ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی
کی وارداتوں میں جامعات کے طلباء کے ملوث ہونے پر یہ اقدام کیا جارہا ہے کہ طلباء کا ریکارڈ اور ڈیٹا حساس اداروں کو فراہم کیا جائے۔تاہم اس فیصلے کی منظوری اکیڈمک کونسل جامعہ کراچی کے اجلاس میں دی جائے گی۔دوسری جانب وائس چانسلر یونیورسٹی آف کراچی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں ڈینز اور انتظامی افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں جامعہ کراچی
کی رہائشی کالونی اور ہاسٹلز میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق جامعہ کی کالونی میں رہائش پذیر افراد کا ریکارڈ جمع کیا جائے گا اور غیر متعلقہ افراد کو بے دخل کردیا جائے گا۔جب کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ کیا جامعات دہشت گردوں کی افزائش گاہ بن گئی ہیں۔