سکھر(آن لائن ) سندھ کے تیسرے بڑے شہر میں محکمہ ایکسائیز وضلعی پولیس کی پرسرار خاموشی نے وائن شاپ مالکان کے حوصلے بلند کر دیئے اور وائن شاپ مالکان نے متعلقہ محکموں کے کرپشن میں ملوث افسران کی ملی بھگت کے زریعے اپنے گھناؤنے کاروبار کو فروغ دینے
کیلئے نت نئے طریقے و حربے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں اور وائن شاپ بند ہونے کے بعد رات دیر گئے بھی فون سروس اور ہوم ڈیلیوری سروس شروع کر دی ہے ہوم سروس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے اب نوجوان نسل کی بڑی تعداد نے وائن شاپ سے شراب خریدنے کے بجائے ان سروس سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے جو نوجوان نسل کی تباہی کا باعث بن رہی ہیزرائع نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ وائن شاپ مالکان محکمہ ایکسائیز کے کرپشن میں ملوث افسران کیساتھ ملکر اپنے کارندوں کو شراپ پینے کے لائسنس جاری کرا دیئے ہیں جس کی بدولت وائن شاپ کے کارندے رات دیر گئے پولیس سے بلا خوف و خطر اپنے گھناؤنے کاروبار کو فروغ دینے میں مصروف ہیں لیکن محکمہ ایکسائیز اور پولیس اس گھناؤنے کاروبار کا علم ہونے کے باوجود مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں شہری حلقوں نے شہر میں کھلے عام شراب فروخت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بالا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وائن شاپ پر پابندی عائد کرتے ہوئے نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جائے اور گھناؤنے کاروبار میں ملوث متعلقہ محکموں کے کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے