ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی ٹی وی کو انٹرویو،عمران خان کو ٹرمپ کو جواب نے سب کو لاجواب کردیا،امریکی فوج پر ہی سوال اُٹھادیئے

datetime 25  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ نے کبھی بھِی افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کی کوشش ہی نہیں کی ٗ صرف بم برسائے اور قتل عام کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نائن الیون کے بعد افغان جنگ میں پاکستان کا اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، 70 ہزارلوگوں نے جانیں دیں ٗ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ٗ

امریکی امداد سے زیادہ پاکستان کا نقصان ہوا جہاں معیشت تباہ ہوئی، پاکستان کو ایسی امداد کی ضرورت نہیں جو معیشت تباہ کردے اورہم امداد کے بغیر بھی جنگ لڑسکتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں امریکی اور نیٹو افواج کے ہوتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کے 2 ہزار لوگوں نے امریکہ کو جنگ نہیں جیتنے دیٗ یہ کسی مذاق سے کم ہے کہ لاکھوں امریکی فوجیوں کو چند دہشت گردوں نے جنگ نہیں جیتنے دی۔عمران خان نے کہا کہ امریکہ نے کبھی بھِی افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کی کوشش ہی نہیں کی ٗ صرف بم برسائے اور قتل عام کیا اور اب مزید امریکی فوجی افغانستان میں کونسا ایسا کارنامہ سرانجام دیں گے جو پہلے سے موجود فوجی نہیں دے سکے۔عمران خان نے کہا کہ جس حقانی نیٹ ورک کی حمایت کا پاکستان پر الزام لگایاجاتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ 3 ہزار ہیں،یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ ڈیڑھ لاکھ کی فوج 3ہزار لوگوں کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کی حمایت کا الزام مضحکہ خیزہے ۔انہوں نے کہا کہ چین کے بعدروس نے بھی پاکستان سے متعلق پالیسی پرامریکہ کوخبردار کردیا، روسی وزیر خارجہ کہتے ہیں امریکی صدر کی افغان پالیسی ’’ڈیڈ اینڈ پالیسی‘‘ ہے ۔یہ پالیسی اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے بتائے گئے اصولوں سے بھی ہٹ کر ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ ڈونلڈٹرمپ کے بیان سے پاکستانیوں کو تکلیف پہنچی اور انہیں تذلیل محسوس ہوئی ۔

انہوں نے کہاکہ نائن الیون کے بعد امریکہ کی افغانستان میں جنگ سے ہر پاکستانی متاثر ہوا جبکہ امریکی صدرکے بیان سے ہر پاکستانی کی دل آزاری ہوئی ہے۔عمران خان نے امریکی صدر کو جنگ کے خاتمے کے حوالے سے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ انہیں طالبان سے مذاکرات کرنے چاہیے۔انٹرویو کے دوران میزبان نے انہیں امریکہ میں سابق افغان سفیر زلمے خلیل زاد کا بیان سنوایا جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی حکام دہشت گردوں کی ان کے شہروں میں موجودگی سے واقف ہیں

جس پر عمران خان نے کہا کہ زلمے خلیل زاد کو اگر ان دہشت گردوں کے بارے میں معلومات ہیں تو وہ پاکستانی حکومت کو کیوں آگاہ نہیں کرتے جیسا کہ پاکستانی حکام متعدد مرتبہ اس عزم کا اعادہ کرچکے ہیں کہ اگر کوئی انہیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں اطلاع فراہم کرے گا تو وہ ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان کو مشترکہ طور پر منظور کیا تھا جس پرعمل کیا جائے تو دہشت گرد گروپوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔وزیراعظم بننے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ وہ کھلاڑی ہیں اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ مثبت سوچ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمارا وقت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…