ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا سب سے بڑا کنجوس راجن پور کا رہائشی65سالہ نذیر کروڑوں روپے کی زمین کا مالک نکلا

datetime 19  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کا سب سے بڑا کنجوس راجن پور کا رہائشی65سالہ نذیر کروڑوں روپے کی زمین کا مالک ہے،لیکن انتہا کا کنجوس آدمی ہے،نذیر نے21لاکھ روپے اپنے گھر میں رکھے ہوئے تھے اس نے یہ رقم اپنے کچے مکان میں زمین کھود کر ایک صندوق میں دبائے ہوئے تھے،نذیر چادر بچھا کر اس کے اوپر بیٹھ جاتا تھا،

نذیر کی کنجوسی کی حد یہ تھی کہ اپنی بیوی کو کپڑے تو دور کی بات کھانے کےلئے صرف30روپے روز کے دیتا تھا،نذیر کی کنجوسی کا علم اس وقت ہوا جب اس کے بیٹے اور بیوی تنگ آکر نذیر کی رقم21لاکھ نکال کر تھانے لے گئے اور بتایا کہ ہمارا باپ اتنی رقم ہونے کے باوجود ہمیں کچھ نہیں دیتا ہے،ڈی پی او رحیم یار خان اس کنجوس زمیندار کے پاس اتنے پیسے دیکھ کر حیران ہوگئے،تفتیش کرنے پر پتہ چلا کہ نذیر کا شناختی کارڈ ہی نہیں بنا اس لئے اس کا بینک اکاونٹ نہیں بنا ہے،ڈی پی او نے ایس ایچ او کو ہدایت کی کہ جب تک نذیر کا اکاونٹ نہیں کھلتا تب تک یہ رقم اس کے کسی رشتہ دار کے حوالے کر دی جائے۔ نذیر نے اس وقت سب کو حیران کر دیا جب21لاکھ روپے واپس کئے گئے تو وہ تھانے میں بیٹھ کر گنتا رہا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…