جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

عاصمہ جہانگیر نے وزیر اعظم کوبھی انتباہ کردیا

datetime 11  اگست‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم ،وکلاء سمیت کوئی بھی قانون سے بالادست نہیں اور کسی کو عدالتوں کے سامنے پیش ہونے سے انکار بھی نہیں کرنا چاہیے ، پہلے وکیلوں سے بدتمیزی ہوتی تھی آج ججز سے ہو رہی ہے جس کی شدید مذمت کرتی ہوں ۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے احاطہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز کے بنچ سے بہت اختلافات ہیں،

ہرفورم پر بنچ اور بارکے اختلافات کا ذکر کیا ہے لیکن میں ججز سے بدتمیزی اور عدالتوں میں ہلڑبازی کی مذمت کرتی ہوں۔ کسی کو بھی بار اور بنچ کی آڑ میں سیاست کرنے یا ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، یہ تاثر غلط ہے کہ وکلا کی اکثریت ملتان ہائیکورٹ بار کے صدر شیرزمان کے ساتھ ہے، وکلا قانون کی بالادستی کے ساتھ ہیں، قانون کی بالادستی کے لئے وزیر اعظم کو بھی عدالت میں پیش ہونا پڑا، عدالت نے طلب کیا ہے تو شیر زمان کو عدالت میں ہر صورت پیش ہونا پڑیگا۔انہوں نے بتایا کہ عدالت نے بدتمیزی کرنے والے وکلاء کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں روکی بلکہ پنجاب بارکونسل کی یقین دہانی پرعدالت نے کارروائی کی مہلت دی ہے ۔پہلے وکیلوں سے بدتمیزی ہوتی تھی آج ججز سے ہورہی ہے،تمام بار عہدیداروں نے بھی ججزسے بدتمیزی کی، عدالت میں مذمت کی۔ ایک سوال کے جواب میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میں قانون کی بالادستی کے ساتھ ہوں ۔ وزیر اعظم ،وکلاء سمیت کوئی بھی قانون سے بالادست نہیں اور کسی کو عدالتوں کے سامنے پیش ہونے سے انکار بھی نہیں کرنا چاہیے ، پہلے وکیلوں سے بدتمیزی ہوتی تھی آج ججز سے ہو رہی ہے جس کی شدید مذمت کرتی ہوں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…