اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

افغان مسئلے کا حل ،پاکستان کا دوٹوک اعلان،پاکستان نے امریکہ اور افغانستان کو آئینہ دکھادیا

datetime 27  جولائی  2017 |

واشنگٹن (این این آئی) امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چودھری نے کہاہے کہ افغانستان میں ہونیوالی دہشت گردی کے واقعات کیلئے پاکستان کومورد الزام ٹھہرانا مددگار ثابت نہیں ہوگا،افغان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں ہے،وسیع تر سیاسی مفاہمت کو فروغ دیا جانا چاہئے،پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں فرار ہونیوالے عسکریت پسندوں کے افغانستان میں حکومتی عملدراری سے آزاد علاقوں میں محفوظ ٹھکانے قائم کرنے کے شواہد موجود ہیں،

جہاں سے وہ پاکستان اورافغانستان میں دہشت گردی کی مربوط کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں،پاک چین اقتصادی راہداری کے نتیجے میں خطے میں ترقی ،خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا،پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے امریکہ کیساتھ ایک شراکت دار کے طورپر کام کرنے کیلئے تیارہے۔واشنگٹن میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہمتام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعزاز چودھری نے کہا کہ افغانستان میں ہونیوالی دہشت گردی کے واقعات کیلئے پاکستان کومورد الزام ٹھہرانا مددگار ثابت نہیں ہوگا۔افغان مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں ہے ، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں وسیع تر سیاسی مفاہمت کو فروغ دیا جانا چاہئے، انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ سیاسی مفاہمت ہی افغانستان میں وسیع تر اورپائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کیلئے سیاسی بشمول مختلف افغان دھڑوں کے درمیان مفاہمت، جامع اورفعال سرحدی انتظام وانصرام، افغان پناہ گزینوں کی واپسی اورپاکستان اورافغانستان کے درمیان قریبی تعاون اشد ضروری ہے۔انہوں نے شرکاء کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں و قربانیوں، پاکستان کی اقتصادی ترقی اورخطے کے اہم مسائل بارے پاکستان کے موقف کے حوالے سے تفصیل سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی اورانتہاپسندی کے خاتمے کیلئے اقدامات کیساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں جس کے اچھے اثرات سامنے آرہے ہیں،

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیش قیمت جانی و مالی قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں ہماری قربانیاں سب سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقتصادی شعبے کی ترقی کو اولین ترحیح دی ہے اوراس ضمن میں اصلاحات کا عمل جاری ہے جس سے پاکستان کے اقتصادی اعشاریئے مثبت رحجان کی عکاسی کررہے ہیں۔انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں خطے میں ترقی اورخوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا،

اس راہداری نے پاکستان میں امریکہ سمیت بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کردئیے ہیں ، بین الاقوامی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کیلئے اپنی خواہش کا اظہارکررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے مقاصد کیلئے امریکہ کے ساتھ ایک شراکت دار کے طورپر کام کرنے کیلئے تیارہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…