جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

جیلوں میں غریب شخص کو علاج کیلئے ہسپتال تک نہیں پہنچایا جاتا ٗ ڈاکٹر عاصم کیلئے کیا کچھ ہوگیا؟سپریم کورٹ کے جج نے دوہرے معیار سے پردہ اُٹھادیا

datetime 14  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ جج جسٹس اعجاز افضل نے کہا ہے کہ جیلوں میں غریب شخص کو علاج کیلئے ہسپتال تک نہیں پہنچایا جاتاجبکہ ڈاکٹر عاصم کیلئے 10 میڈیکل بورڈ بنا دیے گئے۔ جمعہ کوڈاکٹر عاصم کی بیرون ملک روانگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر ناصرمغل نے کہاکہ ڈاکٹرعاصم کے معاملے میں غیر روایتی طور پر10 میڈیکل بورڈ تشکیل دئیے گئے مگر کسی میڈیکل بورڈ نے سرجری کی تجویز نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کیس میں طبی بنیادوں پر ضمانت نہیں بنتی، کوئی ڈاکٹر بھی ڈاکٹرعاصم کے خلاف موقف دینے کو تیار نہیں ٗآج تک جتنے ملزمان باہر گئے واپس نہیں آئے جبکہ ایک لیڈر ویل چیر پرگئے اورڈانس کرتے پائے گئے۔اس موقع پر ڈاکٹرعاصم کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتی حکم پر سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ بنائے گئے، ڈاکٹرعاصم کیس میں جو کچھ ہوا وہ ڈراؤنے خواب سے کم نہیں، ریاست کسی کی زندگی کے ساتھ اتنی غیر ذمہ دارکیسے ہوسکتی ہے ٗ ملزم زندہ رہے گا تب ہی ٹرائل کریں گے۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ کسی بھی قیدی پر میڈیکل بورڈ بنالیں، یہ سب بیماریاں اس میں بھی نکل آئیں گی ٗٹینشن اور ڈپریشن کا ہر کوئی مریض ہے ٗجیلوں میں غریب شخص کوعلاج کیلئے ہسپتال تک نہیں پہنچایا جاتااس کیس میں 10 میڈیکل بورڈ بنا دئیے گئے۔جسٹس اعجاز افضل کے کہا کہ شہریوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیا جاتا کیوں نا تمام صوبوں پرمشتمل میڈکل بورڈ بنانے کی تجویز پر غور کریں ٗ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں تمام چیزیں سندھ حکومت کے ماتحت ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایسی مثال نا قائم کریں جو پہلے نہیں ہوئی اس پر جسٹس اعجاز افضل بولے 10 میڈیکل بورڈ کی مثال بھی تو کبھی قائم نہیں ہوئی۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ ڈاکٹرعاصم کی آئی سی یو میں حالت میں نے خود دیکھی ہے ٗ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ آپ ضرور دیکھیں ٗ آپ ان کے وکیل ہیں،

جسٹس منظور ملک بولے کھوسہ صاحب آپ کا ہرکیس ہی اسی نوعیت کا ہوتا ہے۔اس موقع پر عدالت نے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے نیب کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 20 جولائی تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…