اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

بکھری ہوئی اپوزیشن وزیراعظم کے استعفیٰ پر اکٹھی ہو گئی

datetime 14  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت پانچ سال مکمل کرے، جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں، وزیراعظم سے ایک بار پھر استعفیٰ کا پرزور مطالبہ،سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعادہ، مشترکہ اپوزیشن اجلاس کے بعد رہنمائوں کی میڈیا سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق ن لیگ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے موقع پر مشترکہ اپوزیشن رہنمائوں کے بلائے گئے اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنمائوں

نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم حکومت کے خلاف نہیں، جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں تاہم جے آئی ٹی کے الٹرا سائونڈ کے بعد وزیراعظم کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ اپوزیشن رہنمائوں نے پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے اور سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر اور پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں ، حکومت جے آئی ٹی پر تابڑ توڑ حملے کر رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جلائو گھیرائو کا ماحول نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس کی حمایت کریں گے کیونکہ ہمیں عدالتوں پر اعتماد ہے اور کیس عدالت میں ہے، تحریک انـصاف کےرہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پانامہ کیس کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنا واضح موقف رکھتی ہے ، ہم جمہوریت کے حامی ہیں تاہم وزیراعظم نواز شریف کو اب مستعفی ہو جانا چاہئے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے جے آئی ٹی میں ہونے والے الٹرا سائونڈ کے بعد انہیں استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ مشترکہ اپوزیشن رہنمائوں کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ اور شیری رحمان ، تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری، مسلم لیگ ق کے پرویز الٰہی، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، پیپلزپارٹی شیرپائو کے آفتاب احمد شیرپائو ، جماعت اسلامی کے سراج الحق سمیت دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…