جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

مریم نواز پر جعل سازی کا الزام ، کیلیبری فونٹ کا خالق منظر عام پر آگیا ، کیا بیان دے ڈالا ؟ 

datetime 12  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مریم نواز کی جانب سے کیلیبری فونٹ میں دستاویزات جمع کرانے پر جے آئی ٹی کی جانب سے اس پر جعلسازی کا الزام لگایا گیا جس کے بعد فونٹ کے خالق کا بیان سامنے آنے پرن لیگ کا موقف درست دکھائی دے رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آرہی تھی کہ مریم نواز کی جانب سے جے آئی ٹی میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں جو فونٹ استعمال کیا گیا ہے

جسے کیلیبری فونٹ کہا جاتا ہے وہ 2007میں مائیکرو سافٹ نے متعارف کروایا تھا جبکہ اس حوالے سے پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پی آئی ڈی میں وفاقی وزرا اور شریف خاندان کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ فونـٹ 2004میں صارفین کے استعمال کیلئے موجود تھا ۔ اب اس فونٹ کے خالق لوکاس ڈی گروٹ کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔ نجی ٹی وی سما کی رپورٹ کے مطابق فونٹ کے خالق لوکاس ڈی گروٹ کا کہنا ہے کہ کیلیری فونٹ پر 2002 سے کام شروع ہوا۔یہ فونٹ کی حتمی سورس فائلز مائیکروسافٹ کومارچ 2004 میں بھیجوائی گئیں۔اگرچہ مائیکروسافٹ وسٹاآپریٹنگ سسٹم میں یہ فونٹ آگیاتھا اور اس کا کوڈ نام لانگ ہارن تھا۔ لوکاس فونٹ نےبتایاکہ اس حوالے سے مائیکروسافٹ ہی حتمی طورپرکچھ بتاسکتا ہے کہ کب یہ عام صارف کی لیے دستیاب ہوا کیوں کہ شروع میں انتہائی خاص لوگ یہ استعمال کرسکتےتھے۔لوکاس ڈی گروٹ کا کہنا ہے کہ کیلیری فونٹ پر 2002 سے کام شروع ہوا۔یہ فونٹ کی حتمی سورس فائلز مائیکروسافٹ کومارچ 2004 میں بھیجوائی گئیں۔اگرچہ مائیکروسافٹ وسٹاآپریٹنگ سسٹم میں یہ فونٹ آگیاتھا اور اس کا کوڈ نام لانگ ہارن تھا۔ لوکاس فونٹ نےبتایاکہ اس حوالے سے مائیکروسافٹ ہی حتمی طورپرکچھ بتاسکتا ہے کہ کب یہ عام صارف کی لیے دستیاب ہوا کیوں کہ شروع میں انتہائی خاص لوگ یہ استعمال کرسکتےتھے۔

انھوں نے مزید بتایاکہ کیلی بری کے پہلےبیٹا ورژن کو 2006 میں جاری کیاگیا تاہم اس کی حتمی تاریخ کا علم نہیں ۔تاہم ایسا ہونا انتہائی غیرمعمولی ہے کہ کوئی صارف بیٹا ورژن سے فونٹ کاپی کرکے سرکاری دستاویزکےلیے استعمال کرے۔اب موقف مریم نواز کا درست ہے یا جے آئی ٹی کا ؟ اس کا فیصلہ مائیکرو سافٹ کا رد عمل سامنے آنے پر ہوگا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…