جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

جے آئی ٹی کی رپورٹ،مولانا فضل الر حمن نے ایک ہی جملے میں بات ہی ختم کردی

datetime 9  جولائی  2017 |

لاہور(آئی این پی)’’سپر یم کورٹ بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو متنازعہ ہی تصور کر یں کیونکہ جے آئی ٹی سیاسی بن چکی ہے‘‘ جے یوآئی (ف) کے سر براہ مولانا فضل الر حمن نے کہا ہے کہ ہم نوازشر یف کیلئے کوئی مشکل پیدا نہیں کر ناچاہتے ہیں کیونکہ ہم دوستیاں نبھانے والوں میں سے ہیں دوستیاں اجاڑنے والوں میں سے نہیں ‘جو خود آف شور کمپنی کا مالک ہے وہ نوازشر یف کے خلاف کیسے کیس میں مدعی بن سکتا ہے ؟‘

احتساب کسی ایک کا نہیں سب کا مگر شفاف احتساب ہونا چاہیے ‘جے آئی ٹی کے بعد اسکی رپورٹ بھی متنازعہ ہوگی اس لیے سپر یم کورٹ بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو متنازعہ ہی تصور کر یں کیونکہ جے آئی ٹی سیاسی بن چکی ہے بہتر ہوتا کیس جے آئی ٹی کی بجائے سپر یم کور ٹ میں چلتا ۔ اتوار کے روز پارٹی اجلاس کے بعدپر یس کا نفر نس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الر حمن نے کہا کہ جب پانامہ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے تو اس پر سپر یم کورٹ نے جے آئی ٹی کیوں بنائی اس معاملے کے قانونی ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے بحث کی جاسکتی ہے اور جے آئی ٹی قانونی ہے بھی یا نہیں اس پر بات ہوسکتی ہے میں سمجھتاہوں کہ بہتر ہوتا کہ اس کیس کا فیصلہ سپر یم کورٹ خود ہی کر لیتی تو معاملات یہاں تک نہ آتے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الر حمن نے جوخود قوم کے سامنے اپنی آف شور کمپنی کا اعتراف کر چکا ہے وہ کیسے نوازشر یف کے خلاف اسی معاملے پر مدعی ہوسکتا ہے یہ بھی پوری قوم کو دیکھنا ہوگا اور جہاں تک جے آئی ٹی کا تعلق ہے تو (ن) لیگ نے انکے ساتھ مکمل تعاون کیا اور اپنا بیان بھی قلمبند کروائے مگر اسکے باوجود وہ جے آئی ٹی کو متنازعہ کہتے ہیں تواسکے بعد کوئی شک نہیں کہ جے آئی ٹی سیاسی اور متنازعہ ہوچکی ہے اور اس کی جو بھی رپورٹ آئیگی وہ سیاسی اور متنازعہ ہوگی

اس لیے سپر یم کورٹ کو بھی اس جے آئی ٹی اور اسکی رپورٹ کو متنازعہ ہی تصور کر نا چاہیے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ حکومت کے خلاف فیصلہ آنے پر بھی نوازشر یف کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو اس کے جواب میں مولانا فضل الر حمن نے کہا کہ ہم نوازشر یف کیلئے کوئی مشکل پیدا نہیں کر نے چاہتے ہیں کیونکہ ہم دوستیاں نبھانے والوں میں سے ہیں دوستیاں اجاڑنے والوں میں سے نہیں اور میں نے اس حوالے سے جو کچھ کہہ دیا اس کو ہی کافی سمجھا جائے ہم بھی عام پاکستانی کی طر ح ہی تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور اگر مگر کے چکروں میں نہیں پڑ نا چاہتے جب کوئی فیصلہ آئیگا تو پھر ہم بھی دیکھیں گے ۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…