بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

جے آئی ٹی کی رپورٹ،مولانا فضل الر حمن نے ایک ہی جملے میں بات ہی ختم کردی

datetime 9  جولائی  2017 |

لاہور(آئی این پی)’’سپر یم کورٹ بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو متنازعہ ہی تصور کر یں کیونکہ جے آئی ٹی سیاسی بن چکی ہے‘‘ جے یوآئی (ف) کے سر براہ مولانا فضل الر حمن نے کہا ہے کہ ہم نوازشر یف کیلئے کوئی مشکل پیدا نہیں کر ناچاہتے ہیں کیونکہ ہم دوستیاں نبھانے والوں میں سے ہیں دوستیاں اجاڑنے والوں میں سے نہیں ‘جو خود آف شور کمپنی کا مالک ہے وہ نوازشر یف کے خلاف کیسے کیس میں مدعی بن سکتا ہے ؟‘

احتساب کسی ایک کا نہیں سب کا مگر شفاف احتساب ہونا چاہیے ‘جے آئی ٹی کے بعد اسکی رپورٹ بھی متنازعہ ہوگی اس لیے سپر یم کورٹ بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو متنازعہ ہی تصور کر یں کیونکہ جے آئی ٹی سیاسی بن چکی ہے بہتر ہوتا کیس جے آئی ٹی کی بجائے سپر یم کور ٹ میں چلتا ۔ اتوار کے روز پارٹی اجلاس کے بعدپر یس کا نفر نس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الر حمن نے کہا کہ جب پانامہ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے تو اس پر سپر یم کورٹ نے جے آئی ٹی کیوں بنائی اس معاملے کے قانونی ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے بحث کی جاسکتی ہے اور جے آئی ٹی قانونی ہے بھی یا نہیں اس پر بات ہوسکتی ہے میں سمجھتاہوں کہ بہتر ہوتا کہ اس کیس کا فیصلہ سپر یم کورٹ خود ہی کر لیتی تو معاملات یہاں تک نہ آتے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الر حمن نے جوخود قوم کے سامنے اپنی آف شور کمپنی کا اعتراف کر چکا ہے وہ کیسے نوازشر یف کے خلاف اسی معاملے پر مدعی ہوسکتا ہے یہ بھی پوری قوم کو دیکھنا ہوگا اور جہاں تک جے آئی ٹی کا تعلق ہے تو (ن) لیگ نے انکے ساتھ مکمل تعاون کیا اور اپنا بیان بھی قلمبند کروائے مگر اسکے باوجود وہ جے آئی ٹی کو متنازعہ کہتے ہیں تواسکے بعد کوئی شک نہیں کہ جے آئی ٹی سیاسی اور متنازعہ ہوچکی ہے اور اس کی جو بھی رپورٹ آئیگی وہ سیاسی اور متنازعہ ہوگی

اس لیے سپر یم کورٹ کو بھی اس جے آئی ٹی اور اسکی رپورٹ کو متنازعہ ہی تصور کر نا چاہیے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ حکومت کے خلاف فیصلہ آنے پر بھی نوازشر یف کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو اس کے جواب میں مولانا فضل الر حمن نے کہا کہ ہم نوازشر یف کیلئے کوئی مشکل پیدا نہیں کر نے چاہتے ہیں کیونکہ ہم دوستیاں نبھانے والوں میں سے ہیں دوستیاں اجاڑنے والوں میں سے نہیں اور میں نے اس حوالے سے جو کچھ کہہ دیا اس کو ہی کافی سمجھا جائے ہم بھی عام پاکستانی کی طر ح ہی تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور اگر مگر کے چکروں میں نہیں پڑ نا چاہتے جب کوئی فیصلہ آئیگا تو پھر ہم بھی دیکھیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…