جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

جے آئی ٹی کی رپورٹ،مولانا فضل الر حمن نے ایک ہی جملے میں بات ہی ختم کردی

datetime 9  جولائی  2017 |

لاہور(آئی این پی)’’سپر یم کورٹ بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو متنازعہ ہی تصور کر یں کیونکہ جے آئی ٹی سیاسی بن چکی ہے‘‘ جے یوآئی (ف) کے سر براہ مولانا فضل الر حمن نے کہا ہے کہ ہم نوازشر یف کیلئے کوئی مشکل پیدا نہیں کر ناچاہتے ہیں کیونکہ ہم دوستیاں نبھانے والوں میں سے ہیں دوستیاں اجاڑنے والوں میں سے نہیں ‘جو خود آف شور کمپنی کا مالک ہے وہ نوازشر یف کے خلاف کیسے کیس میں مدعی بن سکتا ہے ؟‘

احتساب کسی ایک کا نہیں سب کا مگر شفاف احتساب ہونا چاہیے ‘جے آئی ٹی کے بعد اسکی رپورٹ بھی متنازعہ ہوگی اس لیے سپر یم کورٹ بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو متنازعہ ہی تصور کر یں کیونکہ جے آئی ٹی سیاسی بن چکی ہے بہتر ہوتا کیس جے آئی ٹی کی بجائے سپر یم کور ٹ میں چلتا ۔ اتوار کے روز پارٹی اجلاس کے بعدپر یس کا نفر نس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الر حمن نے کہا کہ جب پانامہ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے تو اس پر سپر یم کورٹ نے جے آئی ٹی کیوں بنائی اس معاملے کے قانونی ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے بحث کی جاسکتی ہے اور جے آئی ٹی قانونی ہے بھی یا نہیں اس پر بات ہوسکتی ہے میں سمجھتاہوں کہ بہتر ہوتا کہ اس کیس کا فیصلہ سپر یم کورٹ خود ہی کر لیتی تو معاملات یہاں تک نہ آتے ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الر حمن نے جوخود قوم کے سامنے اپنی آف شور کمپنی کا اعتراف کر چکا ہے وہ کیسے نوازشر یف کے خلاف اسی معاملے پر مدعی ہوسکتا ہے یہ بھی پوری قوم کو دیکھنا ہوگا اور جہاں تک جے آئی ٹی کا تعلق ہے تو (ن) لیگ نے انکے ساتھ مکمل تعاون کیا اور اپنا بیان بھی قلمبند کروائے مگر اسکے باوجود وہ جے آئی ٹی کو متنازعہ کہتے ہیں تواسکے بعد کوئی شک نہیں کہ جے آئی ٹی سیاسی اور متنازعہ ہوچکی ہے اور اس کی جو بھی رپورٹ آئیگی وہ سیاسی اور متنازعہ ہوگی

اس لیے سپر یم کورٹ کو بھی اس جے آئی ٹی اور اسکی رپورٹ کو متنازعہ ہی تصور کر نا چاہیے ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ حکومت کے خلاف فیصلہ آنے پر بھی نوازشر یف کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو اس کے جواب میں مولانا فضل الر حمن نے کہا کہ ہم نوازشر یف کیلئے کوئی مشکل پیدا نہیں کر نے چاہتے ہیں کیونکہ ہم دوستیاں نبھانے والوں میں سے ہیں دوستیاں اجاڑنے والوں میں سے نہیں اور میں نے اس حوالے سے جو کچھ کہہ دیا اس کو ہی کافی سمجھا جائے ہم بھی عام پاکستانی کی طر ح ہی تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور اگر مگر کے چکروں میں نہیں پڑ نا چاہتے جب کوئی فیصلہ آئیگا تو پھر ہم بھی دیکھیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…