جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے پاناما کیس کا فیصلہ آنے سے قبل ہی جارحانہ حکمت عملی اختیار کرلی،جے آئی ٹی اور عمران خان کے ساتھ اب کیا ہونیوالا ہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 8  جولائی  2017 |

اسلام آباد(آن لا ئن)حکومت نے پاناما کیس میں عدالت عظمی کا فیصلہ آنے سے قبل ہی جارحانہ سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا جائے گا ساتھ ہی حکومتی وزراء کی جانب سے جے آئی ٹی میں شامل دو مقتدر اداروں کے نمائندوں پر بھی اعتراضات اٹھا دیئے گئے ہیں جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی زندگی کے ذاتی معاملات کو میڈیا اور عوام میں اچھالا جائے گا ،

اس کے لئے ٹاسک وزیرا عظم نواز شریف نے اپنے اتحادی جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو دے دیا ہے جو کہ سیتا وائٹ کیس کو دوبارہ اچھالیں گے اور ٹیریان کے معاملے پر عمران خان کو نا اہل کروانے کے لئے سپریم کورٹ ، الیکشن کمیشن اور قومی اسمبلی میں رٹ اور ریفر نس دائر کیا جائے گا ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہفتہ کو ایک اور مشاورتی سیاسی اجلاس ہوا جس میں سینئرو فاقی وزراء4 4 خواجہ آصف ، شاہد خاقان عباسی ، سعد رفیق اور احسن اقبال سمیت بعض آئینی اور قانونی ماہرین نے شرکت کی اور اس اجلاس میں بعض اہم فیصلے کئے گئے ہیں جس کے تحت اب حکومت جارحانہ رویہ اختیار کرے گی ، اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لے گی جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تمام کاروائی کو بھی جانبدار قرار دیا گیا اسی لئے وزراء4 4 نے پفتہ کی شام پریس کانفرنس میں جے آئی ٹی پر کڑی تنقید کی اور واضح کر دیا کہ انھیں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ، وزیرا عظم نواز شریف کا ذرائع کے مطابق کہنا تھا کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے جے آئی ٹی میں گئے مگر اب انھیں لگ رہا ہے کہ ان کے خاندان کا احتساب نہیں بلکہ انتقام لیا جا رہا ہے ،

ایک ایک کاغذ پیش کر دیا اور کیا چاہتے ہیں یہ لوگ ، جے آئی ٹی کے دائرہ اختیار پر بھی اس اجلاس میں اعتراضات اٹھا دیئے گئے جبکہ اعلی عدلیہ کے حوالے سے بھی اجلاس میں کچھ سوالات کئے گئے ہیں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ان سازشیوں کو بے نقاب کرین گے جو کہ جمہوریت کے خلاف کھیل کھیل رہے ہیں ،

وزراء اور آئینی ماہرین نے وزیر اعظم کو بعض اہم مشورے بھی دیئے جبکہ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پورا کرتے آئے ہیں اور وہ کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھائیں گے جس سے جمہوری اداروں کو نقصان ہو اور ن لیگ حکومت میں ہے سمجھ داری سے سارے معاملا ت کو کنٹرول کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…