بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

’’پانامہ کیس میں ایک اور تہلکہ خیز موڑ‘‘قطری شہزادے اور جے آئی ٹی میں تندو تیز پیغامات کا تبادلہ

datetime 7  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک) قطری شہزادے کا پاکستانی سپریم کورٹ اور پانامہ جے آئی ٹی کا دائرہ اختیار تسلیم کرنے سے انکار ، پاکستانی شہری نہیں اس لئے کسی پاکستانی قانون کا اطلاق مجھ پر نہیں ہوتا، شہزادہ حماد بن جاسم کا ایک اور خط، جے آئی ٹی کوقطر میں واقع گھر آکر بیان ریکارڈ کرنے کی دوبارہ پیشکش، پاکستانی سفارتخانے جانے سے معذرت۔ تفصیلات کے

مطابق قطری شہزادے حماد بن جاسم الثانی نے اپنے ایک اور خط میں پاکستانی سپریم کورٹ اور پانامہ جے آئی ٹی کا دائرہ اختیار تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستانی شہری نہیں اس لئے کسی بھی پاکستانی قانون کا مجھ پر اطلاق نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایک بار پھر پاکستانی سفارتخانے میں بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کرتے ہوئے جے آئی ٹی کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واقع ان کے گھر میں بیان ریکارڈ کرنے کی پیش کش کی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل جے آئی ٹی کی جانب سے قطری شہزادے کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ جے آئی ٹی ان کی جانب سے سپریم کورٹ میں حسن اور حسین نواز کی طرف سے جمع کرائے گئے خطوط کی صرف تصدیق نہیں تحقیقات بھی کرنا چاہتی ہے اور سپریم کورٹ میں جمع خطوط میں آپ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو تسلیم کر چکے ۔آپ کا موقف سپریم کورٹ میں جمع خطوط کے مواد کی ساکھ پر اثر انداز ہوگا جب کہ تحقیقات کے بغیر آپ کے خطوط غیر مصدقہ رہیں گے۔آپ کے جوابات موصول ہونے میں تاخیر سے تحقیقات میں مشکلات ہیں، آپ کے تحریری خطوط کئی دن بعد جے آئی ٹی کو موصول ہو رہے ہیں،اپنا مئوقف فیکس یا ای میل کے ذریعے واضح کریں،جواب نہ ملنے پر جے آئی ٹی مزید رابطہ کئے بغیر اپنی رپورٹ جمع کرادے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…