جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

بھینسے کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا، نتیجہ کیا نکلا؟

datetime 6  جولائی  2017 |

لاہور ( آن لائن) سپریم کورٹ نے پنچایت کی ہدایت پر مبینہ طور پر چوری ہونے والے بھینسے کی ڈی این اے رپورٹ مسترد کر دی، عدالت نے بھینسا چوری کرنے کے الزام میں دو ملزمان کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ فوجداری مقدمات میں پنچایت کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عمر عطاء بندیال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ملزم جاوید ورک اور ارشاد ورک کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سیاسی مخالفوں نے پولیس کی ساز باز سے ان پر بھینسا چوری کرنے کا جھوٹا مقدمہ درج کیا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر پنچایت نے مبینہ چوری ہونے والے بھینسے کا محکمہ لائیو سٹاک سے ڈی این کرانے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفوں نے ملی بھگت سے بھینسے کی ڈی این اے رپورٹ تیار کر لی۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان ابتدائی تفتیش میں چوری میں ملوث نہیں پائے گئے۔جس پرعدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجداری مقدمات میں پنچایت کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔عدالت نے دونوں ملزمان کی پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہاء کرنے کا حکم دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…