جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

چاردیواری میں بٹھانا ہے تو۔۔۔! عاصمہ جہانگیر کا مریم نواز کی پیشی پر طنز،ن لیگ کے رہنماؤں کو تگڑا جواب

datetime 6  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) معروف وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم رکن عاصمہ جہانگیر نے کہاہے کہ عورت کو اگر چار دیواری میں بٹھانا ہو تو اسے پارلیمان میں نہ لائیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارلیمان میں جانے کیلئے فوراً تیار لیکن دوسری جگہ جانے کیلئے کبھی چار دیواری کا بہانہ کرنا اور کہیں پر پبلک فگر بن جانا۔

یہ ٹھیک نہیں ہے۔مریم شریف کی پیشی کو ایک شریف عورت کی مظلومیت کی حیثیت سے پیش کیا گیا جس کے بارے میں عاصمہ جہانگیر نے تبصرہ کیا کہ یہ بالکل نامناسب تھا۔کیا بینظیر بھٹو شریف عورت نہیں تھیں؟ وہ تو ایسے عدالتوں میں جاتی تھیں کہ ایک دن کراچی اور اگلے دن لاہور اور اس کے بعد پشاور اور پھر کوئٹہ۔ میں سمجھتی ہوں کہ سیاست میں آنے والوں کو سخت جان ہونا چاہیے کیونکہ اگر سیاست کرنی ہے تو یہ سب تو ہو گا۔مریم نواز کی پیشی کے بارے میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ میں نے خود مریم نواز کی ٹویٹس پڑھی ہیں اور انھوں نے تو بہت دلیری سے کہا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کے سامنے جائیں گی۔ میرے خیال میں باقی لوگوں کو بھی چاہیے کہ مریم کو نواز شریف کے بیٹوں کی طرح دیکھیں اور بیٹے بیٹی میں فرق نہ کریں۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عورتیں روزانہ عدالتیں جاتی ہیں اور وہ کوئی ایسی بدنام زمانہ جگہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ عدالت انصاف لینے اور اپنے حقوق کی جنگ لڑنے جاتے ہیں۔میں خود 18 برس کی عمر سے عدالت جاتی رہی ہوں اور میرے خیال میں مرد اور عورت میں تفریق صرف اس صورت میں کی جانی چاہیے جب عورت پردہ نشین ہو اور وہ کسی کے سامنے نہیں آتی تو عدالت اس کیلئے کمیشن کا تعین کر سکتی ہے۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ہماری جیسی خواتین پبلک فگر ہیں اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کسی جگہ جا سکتے ہیں اور کسی جگہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…