جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے ایٹمی میزائل کتنے وقت میں بھارت کو صفحہ ہستی سے مـٹا سکتے ہیں لاہور سے دہلی تک پہنچنے کیلئے ایٹمی میزائل کو کتنے منٹ درکار ہونگے؟ جان کر آپ کا بھی خون جوش مارنے لگے لگا

datetime 30  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر دونوں ممالک ہر طرح کی صورتحال کیلئے پہلے سے تیار رہتے ہیں تاہم پاکستان بھارت سے فضائی اور میزائل ٹیکنالوجی کے حوالے سے کئی سال آگے ہے۔ پاکستان نے بیک وقت دس وار ہیڈ لے جانے والے ایٹمی میزائل ابابیل کا تجربہ کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے جبکہ بھارت ابابیل کی کارکردگی اور ہدف پر

نشانہ بنانے کی نہایت بہترین ٹیکنالوجی کی وجہ سے خوف میں مبتلا ہے۔پاکستانیوں کیلئے یہ بات قابل فخر ہے کہ پاکستان کے ایٹمی میزائل روایتی حریف بھارت کے چپے چپے کو نشانہ بنانے کی نہ صرف صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ 8منـٹ کے قلیل وقت میں بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی صلاحیت نے بزدل دشمن کو کسی بھی قسم کے ایڈونچر کرنے سے بھی باز رکھا ہوا ہے۔ پاکستان کے سرحدی شہر لاہور سے بھارت کے دارلحکومت دلی کا فضائی فاصلہ 412 کلو میٹر ہے، لاہور سے چلایا گیا بین البرعظمی بلیسٹک میزائل تقریباً ایک منٹ ساڑھے تین سیکنڈ بعد دلی کو خوفناک تباہی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔لاہور سے بھارتی شہرکلکتہ کا فاصلہ 1705 کلو میٹر ہے اسی طرح لاہور سے داغا گیامیزائل بھارت کے اوپر سے اڑتے ہوئے اس کی مشرقی سرحد پر واقع کلکتہ شہر کوتقریباً ساڑھے چار منٹ میں نشانہ بنا سکتا ہے۔ پاکستان کے جنوب میں بھارت کا دور دراز ترین سرحدی شہر کنیا کماری ہے ، جس کا لاہور سے فاصلہ 2628 کلو میٹر ہے۔ یعنی پاکستان کا ایٹمی میزائل لاہور سے بھارت کے جنوبی کونے تک پہنچنے کیلئے پونے سات منٹ کا وقت لے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…