پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

بھارت اور اتحادی افواج پاک افغان اسلامی و خونی رشتے کو ختم نہیں کرسکتے، کابل حکومت اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں نہیں پھیلائے،معروف مذہبی شخصیت نے انتباہ کردیا

datetime 8  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل و ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے بھارت اور اتحادی افواج کو خبر دار کیا ہے کہ وہ پاک افغان اسلامی و خونی رشتے کو ختم نہیں کرسکتے‘ کابل حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ بھارت کی بجائے قریب ترین ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ بیٹھے‘ متنازعہ امور کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہیں‘ کابل حکومت کو اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں نہیں پھیلانے چاہئیں‘

جے یو آئی (ف) کی ملک گیر رابطہ عوام مہم میں پاک افغان تعلقات کو بھی اجاگر کیا جائے گا ‘ اضلاع اور ڈویژنل کی سطح پر پروگرام ہونگے۔وہ جے یو آئی (ف) کی مرکزی مجلس شوریٰ کے حالیہ اجلاس کے حوالے سے اس خبر رساں ادارے سے بات چیت کررہے تھے ۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ شوریٰ نے پاک افغان کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کابل حکومت بھارت کی آلہ کار بن گئی ہے اور اس کی فورسز نے بلا اشتعال پاکستان کے پرامن شہریوں اور مردم شماری کے عملے پر حملہ کیا ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ نے کابل حکومت کی اس بلا جواز جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام خونی رشتوں میں منسلک ہیں سب سے بڑھ کر پاکستان کا افغانستان کے ساتھ اسلامی رشتہ بھی ہے۔ بھارت اور نیٹو آج اس رشتے کو ختم کرسکے ہیں نہ آئندہ کرسکیں گے۔ افغانستان پاؤں اتنا پھیلائے جس قدر کابل حکومت کی چادر ہے۔ اسلام آباد اور کابل میں رابطوں کا فقدان نہیں ہونا چاہئے افغانستان کی نااہل حکومت اپنے ملک میں امن تو قائم نہ کرسکی لیکن کابل حکومت افغانستان اور پاکستان دونوں میں بھارت کے کہنے پر بدامنی پھیلانے میں کردار ضرور ادا کررہی ہے۔ کابل حکومت کو مشورہہے کہ قریب ترین پڑوسی ملک کے ساتھ مفاہمانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرے دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔

مذاکرات سے متنازعہ امور کا حل نکل سکتا ہے اور غلط فہمیوں کا ازالہ ممکن ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے بتایا کہ مجلس شوریٰ نے رابطہ عوام مہم کا فیصلہ بھی کیا ہے اعلیٰ سطح کی کمیٹی دینی سیاسی اتحاد کا ٹاسک دیا گیا ہے ہر آپشن کا دروازہ کھلا ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…