جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بھارت اور اتحادی افواج پاک افغان اسلامی و خونی رشتے کو ختم نہیں کرسکتے، کابل حکومت اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں نہیں پھیلائے،معروف مذہبی شخصیت نے انتباہ کردیا

datetime 8  مئی‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آئی این پی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل و ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے بھارت اور اتحادی افواج کو خبر دار کیا ہے کہ وہ پاک افغان اسلامی و خونی رشتے کو ختم نہیں کرسکتے‘ کابل حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ بھارت کی بجائے قریب ترین ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ بیٹھے‘ متنازعہ امور کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہیں‘ کابل حکومت کو اپنی چادر سے بڑھ کر پاؤں نہیں پھیلانے چاہئیں‘

جے یو آئی (ف) کی ملک گیر رابطہ عوام مہم میں پاک افغان تعلقات کو بھی اجاگر کیا جائے گا ‘ اضلاع اور ڈویژنل کی سطح پر پروگرام ہونگے۔وہ جے یو آئی (ف) کی مرکزی مجلس شوریٰ کے حالیہ اجلاس کے حوالے سے اس خبر رساں ادارے سے بات چیت کررہے تھے ۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ شوریٰ نے پاک افغان کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کابل حکومت بھارت کی آلہ کار بن گئی ہے اور اس کی فورسز نے بلا اشتعال پاکستان کے پرامن شہریوں اور مردم شماری کے عملے پر حملہ کیا ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ نے کابل حکومت کی اس بلا جواز جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام خونی رشتوں میں منسلک ہیں سب سے بڑھ کر پاکستان کا افغانستان کے ساتھ اسلامی رشتہ بھی ہے۔ بھارت اور نیٹو آج اس رشتے کو ختم کرسکے ہیں نہ آئندہ کرسکیں گے۔ افغانستان پاؤں اتنا پھیلائے جس قدر کابل حکومت کی چادر ہے۔ اسلام آباد اور کابل میں رابطوں کا فقدان نہیں ہونا چاہئے افغانستان کی نااہل حکومت اپنے ملک میں امن تو قائم نہ کرسکی لیکن کابل حکومت افغانستان اور پاکستان دونوں میں بھارت کے کہنے پر بدامنی پھیلانے میں کردار ضرور ادا کررہی ہے۔ کابل حکومت کو مشورہہے کہ قریب ترین پڑوسی ملک کے ساتھ مفاہمانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرے دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔

مذاکرات سے متنازعہ امور کا حل نکل سکتا ہے اور غلط فہمیوں کا ازالہ ممکن ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے بتایا کہ مجلس شوریٰ نے رابطہ عوام مہم کا فیصلہ بھی کیا ہے اعلیٰ سطح کی کمیٹی دینی سیاسی اتحاد کا ٹاسک دیا گیا ہے ہر آپشن کا دروازہ کھلا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…