بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کے ساتھ بھی کروڑوں کا فراڈ ہوگیا، حیرت انگیزانکشافات

datetime 6  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کی سب سے معروف اورمہنگی ترین شاہراہ دستور پر بننے والے کثیر المنزلہ ہوٹل گرینڈ حیات ہوٹل کے نام پر اپارٹمنٹس بنا کر فروخت کردیئے گئے ۔یہ اپارٹمنٹس نیلامی کے ذریعے بیچے گئے۔ نیلامی کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے بھی گرینڈ حیات عمارت میں اپارٹمنٹس خریدے۔عمران خان کے علاوہ کئی اوراہم شخصیات نے بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی ۔

ایک قومی اخبارکی رپورٹ کے مطابق وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے )نے سال 2004 میں شاہراہ دستور پر واقع پلاٹ فائیو سٹار ہوٹل کیلئے فروخت کرنے کیلئے اشتہار دیاتھا، شرائط میں 33 سالہ لیز، 120 دنوں میں رقم کی ادائیگی شامل تھی جبکہ صرف 6 منزلوں کی اجازت دی گئی ۔یہ اشتہاردیئے جانے کے پانچ ماہ بعد ایک ایک اورنیااشتہاردیاگیااوراس میں نیلامی کےلئے شرائط میں ناقابل یقین نرمی کردی گئی ۔نئی شرائط میں 99 سالہ لیز اور 15 سالہ اقساط میں رقم کی ادائیگی شامل تھی جبکہ منزلوں کی تعداد فلیکسیبل کر دی گئی ، سی ڈی اے نے صرف 15 فیصد ادائیگی پر لیز ڈیڈ پر دستخط کر دیئے۔ انتہائی پر کشش پلاٹ ، انتہائی آسان شرائط کے ساتھ حاصل کرنے کیلئے بڑے بڑے ہوٹلز چلانے والی کمپنیوں نے نیلامی میں حصہ لیا ۔اس منصوبے میں بینک آف پنجاب سے قرضہ لے کردوٹاورزکی تعمیرکی گئی اورپابندی کے بائوجود ان اپارٹمنٹس کواعلی شخصیات کے ناموں پرفروخت کردیاگیا۔گرینڈحیات ہوٹل کے نام سے اس منصوبے میں انتہائی پر کشش پلاٹ ، انتہائی آسان شرائط کے ساتھ حاصل کرنے کیلئے بڑے بڑے ہوٹلز چلانے والی کمپنیوں نے نیلامی میں حصہ لیا لیکن ٹیکسٹائل ملز کے اتحاد کو ہوٹل بنانے کی لیز دے دی گئی۔ پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق گرینڈ حیات ہوٹل کے نام پر قومی خزانے کو 25 ارب کا نقصان پہنچا ۔ ملزمان نے جعلی کاغذات پر لیز حاصل کی جبکہ سی ڈی اے ریکارڈ سے اہم دستاویزات بھی غائب کروادی گئیں ۔جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) نے بھی اربوں روپے مالیت کی زمین لیز کرنے کے سکینڈل کی انکوائری مکمل کر کے مقدمے کااندراج کرلیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…