بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

2016ء میں اسلام آبادمیں جج کے گھر تشدد کا شکار ہونیوالی طیبہ کے کیسکا اب تک کیا ہوا؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )2016ء میں اسلام آبادمیں جج کے گھر تشدد کا شکار ہونیوالی طیبہ کے کیسکا اب تک کیا ہوا؟حیرت انگیزانکشافات، گھریلو تشدد کا شکار کمسن ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بچی کے والدین کو طلب کرلیا جب کہ عدالت کا کہنا ہے کہ فرد جرم کا فیصلہ بیان ریکارڈ کرنے کے بعد کیا جائے گا۔اسلام آبادہائی کورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے طیبہ تشدد کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ والدین اس کیس میں صلح کرنے کے مجاز نہیں اور والدین پہلے سپریم کورٹ میں بھی صلح نامے سے انکار کر چکے ہیں جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر والدین خود ملوث ہیں تو ریاست اب تک کیوں خاموش ہے تاہم والدین سے پوچھ لیتے ہیں وہ کیس کو چلانا چاہتے ہیں یا نہیں اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دفعات قابل صلح ہیں بھی یا نہیں لہذا فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ بچی کے والدین کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ہوگا۔ عدالت نے طیبہ کے والدین کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 10مئی کو دن 2 بجے طلب کرلیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے موقع پر طیبہ کے والدین نے ملزم ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا جب کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بچی کے والدین کی جانب سے جمع کرائے گئے اسی طرح کے صلح نامے کو مسترد کر چکی ہے۔عدالت نے طیبہ کے والدین کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 10مئی کو دن 2 بجے طلب کرلیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے موقع پر طیبہ کے والدین نے ملزم ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا جب کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بچی کے والدین کی جانب سے جمع کرائے گئے اسی طرح کے صلح نامے کو مسترد کر چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…