بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

2016ء میں اسلام آبادمیں جج کے گھر تشدد کا شکار ہونیوالی طیبہ کے کیسکا اب تک کیا ہوا؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )2016ء میں اسلام آبادمیں جج کے گھر تشدد کا شکار ہونیوالی طیبہ کے کیسکا اب تک کیا ہوا؟حیرت انگیزانکشافات، گھریلو تشدد کا شکار کمسن ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بچی کے والدین کو طلب کرلیا جب کہ عدالت کا کہنا ہے کہ فرد جرم کا فیصلہ بیان ریکارڈ کرنے کے بعد کیا جائے گا۔اسلام آبادہائی کورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے طیبہ تشدد کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ والدین اس کیس میں صلح کرنے کے مجاز نہیں اور والدین پہلے سپریم کورٹ میں بھی صلح نامے سے انکار کر چکے ہیں جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر والدین خود ملوث ہیں تو ریاست اب تک کیوں خاموش ہے تاہم والدین سے پوچھ لیتے ہیں وہ کیس کو چلانا چاہتے ہیں یا نہیں اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دفعات قابل صلح ہیں بھی یا نہیں لہذا فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ بچی کے والدین کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ہوگا۔ عدالت نے طیبہ کے والدین کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 10مئی کو دن 2 بجے طلب کرلیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے موقع پر طیبہ کے والدین نے ملزم ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا جب کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بچی کے والدین کی جانب سے جمع کرائے گئے اسی طرح کے صلح نامے کو مسترد کر چکی ہے۔عدالت نے طیبہ کے والدین کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 10مئی کو دن 2 بجے طلب کرلیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے موقع پر طیبہ کے والدین نے ملزم ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کو چیلنج کیا تھا جب کہ اس سے قبل سپریم کورٹ بچی کے والدین کی جانب سے جمع کرائے گئے اسی طرح کے صلح نامے کو مسترد کر چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…