اسلام آباد(آئی این پی )پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجدضیاء وائٹ کالر کرائمز کی تحقیقات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، نیب افسر عرفان نعیم منگی ڈائریکٹرجنرل قومی احتساب بیورو بلوچستان بھی رہ چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ 6 رکنی جے آئی ٹی میں منجھے ہوئے افسران شامل ہیں۔جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے کے عہدے پرتعینات ہیں۔
واجد ضیاء وائٹ کالرکرائمز،منی لانڈرنگ سمیت مالیاتی کرپشن کی تحقیقات کاوسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ حج کرپشن کیس اور بینظیر قتل کیس کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ واجد ضیاء کا تعلق مری سے ہے ، نیب کے عرفان نعیم منگی ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو بلوچستان ہیں جو اچھی شہر ت کے حامل اور گریڈ20کے ا نتہائی پیشہ ور افسر ہیں ، اس سے قبل وہ ڈائریکٹرجنرل کے پی کے اورڈائریکٹرجنرل آپریشنز ہیڈ کوآرٹرزبھی تعینات رہے۔جے آئی ٹیم میں شامل بلال رسول ایس سی سی پی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ترجمان ہیں۔ بلال رسول اس سے قبل اسلامک بنکنگ اور انفورسمنٹ کے شعبہ میں کام کر چکے ہیں۔ان کے والد سابق بیورو کریٹ ہیں وہ تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب کے سابق گورنر میاں محمد اظہر کے بھانجھے ہیں،ٹیم کے چوتھے رکن عامر عزیز اسٹیٹ بنک میں گریڈ اکیس کے آفیسر ہیں اوراس وقت ڈیپوٹیشن پرنیباف میں تعینات ہیں۔ جبکہ جے آئی ٹی میں شامل افسروں کو سفری اور رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی ‘ اور اس کا سیکرٹریٹ جو ڈیشل اکیڈیمی میں ہوگا جہاں جے آئی ٹی کو دفتر ی سہولیات فراہم کی جائیں گی ‘ جے آئی ٹی ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کر سکے گی ‘ جو ڈیشل اکیڈیمی میں دفتر اور ملازمین کی منظوری چیف جسٹس آف پاکستان سے لی جائے گی ‘
سپر یم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جے آئی ٹی 60روز میں تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہوگی جبکہ ہر 15روز بعد سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ کو اپنی رپورٹ بھی پیش کرے گی ‘ جے آئی ٹی کیلئے ابتدائی طور پر د و کروڑ روپے کا فنڈز دینے کا حکم دیا گیا ہے ‘ اس سلسلے میں اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔



















































