لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہورمیں اوباش لڑکے کے ہاتھوں ایک پانچ سالہ کمسن طالبہ کوزیادتی کانشانہ بنانے کاانکشاف ہواہے ۔تفصیلات کے مطابق لاہورمیں فیروزوالہ کے علاقے حیدر روڈ کی رہائشی 5سالہ کمسن طالبہ کےساتھ سکول پرنسپل کے اوباش بیٹے نے مبینہ طورپر زیادتی کی اور ہوس کانشانہ بنانے کے بعد بیہوشی کی حالت میں خالی پلاٹ میں پھینک دیااورملزم خود جائے وقوعہ سے فرارہوگیا۔
جبکہ طالبہ کے والد کانام غلام عباس بتایاگیاہے ۔پولیس نے پرنسپل کے بیٹے یاسرکے خلاف مقدمہ درج کرکے اس کوگرفتارکرلیاہے جبکہ خالی پلاٹ میں زیادتی کے بعد پھینکی گئی طالبہ کومیوہسپتال ریفرکردیاگیاہے جہاں پراس کی حالت تشویشناک ہے ۔اس واقعے کے بارے میں کمسن طالبہ کے والد غلام عباس کاکہناہے کہ میری 5سالہ بچی محلہ محمد نگر میں ایک پرائیویٹ سکول رانا ٹاؤن میں نرسری کلاس میں پڑھتی ہے ، مقررہ وقت پر چھٹی کے بعد گھر نہ آئی تو میں اپنے بھائی کے ہمراہ بیٹی کو تلاش کرنے کے لئے گیا تو اس دوران دیکھاکہ میر ی بیٹی سکول سے ملحقہ پلاٹ میں بے ہوش پڑی تھی جس کے بعد میں اپنی بیٹی کوشاہد رہ ہسپتال لے کرگیا۔ اس ہسپتال انتظامیہ نے میری بیٹی کومزید علاج کےلئے میوہسپتال ریفرکردیاہے اوراس کی حالت تشویشناک ہے اورعلاج کیاجارہاہے ۔کمسن طالبہ کے والد نے اعلی حکام سے ملزم کوسخت سے سخت سزادینے کامطالبہ کیاہے ۔تو اس دوران دیکھاکہ میر ی بیٹی سکول سے ملحقہ پلاٹ میں بے ہوش پڑی تھی جس کے بعد میں اپنی بیٹی کوشاہد رہ ہسپتال لے کرگیا۔ اس ہسپتال انتظامیہ نے میری بیٹی کومزید علاج کےلئے میوہسپتال ریفرکردیاہے اوراس کی حالت تشویشناک ہے اورعلاج کیاجارہاہے ۔کمسن طالبہ کے والد نے اعلی حکام سے ملزم کوسخت سے سخت سزادینے کامطالبہ کیاہے ۔تاکہ آئندہ کوئی بھی ایساکام کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے ۔



















































