راولپنڈی (آئی این پی )پاکستان اور افغانستان کے عسکری حکام کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد نے افغانستان کی جانب سے فائرنگ کی مذمت کی اور کہا کہ چمن گارڈن مکی لقمان اور مکی جہانگیر منقسم دیہات میں مردم شماری عملہ پاکستان حدود میں فرائض
انجام دے رہا تھا ، اپنی حدود میں اپنا کام جاری رکھیں گے ، افغان فورس اپنی سرحدی حدود میں رہے اور تناؤ ختم کرے ، افغان ڈی جی ایم او نے معاملے کی تحقیقات پر اتفاق کیا ۔ جمعہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے عسکری حکام کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد نے افغانستان کی جانب سے فائرنگ کی مذمت کی ۔ ڈی جی ایم او نے کہا کہ چمن کے گاؤں مکی لقمان اور مکی جہانگیز منقسم دیہات ہیں ، مردم شماری عملہ پاکستانی حدود میں فرائض انجام دے رہا تھا، اپنی حدود میں اپنا کام جاری رکھیں گے ، افغان فورس اپنی سرحدی حدود میں رہے اور تناؤ ختم کرے ، افغان ڈی جی ایم او نے معاملے کی تحقیقات پر اتفاق کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ رک گیا ۔



















































