منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

ڈان لیکس اور پاناما لیکس نے وزیراعظم کی چیخیں نکلوا دیں ، سینئررہنماکے انکشاف نے ن لیگ میں ہلچل مچادی

datetime 3  مئی‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی) پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پنجاب کے حکمرانوں کی کارنر میٹنگز اوراحتجاجی کیمپ سے ہی ٹانگیں کپکپا رہی ہیں ،ماضی میں شیروں پر تکیہ کیا تو وہ کاغذی نشان ہی ثابت ہوا ،آپ اور آپ کے کاغذی شیر میدان میں کھڑے نہیں ہو سکے اور بھاگ گئے،جیالے ناراض ہیں کہ احتجاجی کیمپ کا مقام کیوں تبدیل کیا گیا ،انتظامیہ سے کہوں گا کسی فرد یا جماعت کے ساتھی نہ بنیں

اگر راستے روکنے کی کوشش کی تو پھر وہیں جلسہ اور جلوس ہو گا کیونکہ ہم نے تو احتجاج ہی کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناصر باغ میں چار مئی کو لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ کے انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منظور ، نوید چوہدری ، مصطفی نواز کھوکھر سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جو کہتے تھے پیپلزپارٹی ختم ہو گئی ہے اب وہ بوکھلا ئے ہوئے کیوں ہیں ،ہم نے کارنر میٹنگز کا سلسلہ شروع کیا اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ لگا رہے ہیں تو مقبول حکمرانوں کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو گئی ہیں۔آج ناصر باغ میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ میں طاقت کا بھرپو رمظاہرہ ہوگا۔میاں صاحب کو پٹواریوں کی جلسیوں اور سیاسی جماعتوں کے اجتماع کا فرق ناصر باغ میں معلوم ہوجائے گا ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میاں صاحب کون سا شیر اور کہاں کا شیر جب بھی میدان لگا آپ اور آپ کے کاغذی شیر میدان میں کھڑے نہیں ہو سکے اوربھاگ گئے۔انہوں نے کہا کہ پریشانی میاں صاحب کے چہرے سے عیاں ہے ، ڈان لیکس اور پاناما لیکس نے میاں صاحب کی لکیریں اور چیخیں نکلوا دی ہیں، اپوزیشن بھی آپ کی لکیریں اور چیخیں نکلوائے گی ۔انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی سیاست سے پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے،

قومی اتفاق رائے کے قائل ہیں، پاکستان وفاق ہے اگر قومی اتفاق رائے ہوتو قانون بنتا ہے ،ہم نے این ایف سی سمیت دیگر فیصلے کئے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سارے ڈیمز بننے چاہئیں اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس میں عہدے سے ہٹائے جانے والے پی آئی او نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے ، طارق فاطمی کا وضاحتی خط بھی سامنے آ گیا ہے ۔حکمران کہتے ہیں کہ ٹوئٹ سے نظام نہیں چلتا لیکن حکومت کی طرف سے ساری پالیسیاں ٹوئٹ پر ہی جاری کی جارہی ہیں۔خط سیکرٹریز سے پہلے میڈیا میں کیسے آیا کل اور پرسوں بھی ٹوئٹ ہوا ٹوئٹ کا جواب ٹوئٹ ہی ہو گا۔

چوہدری منظور نے کہا کہ جب سے احتجاجی مہم کا آغاز کیا تو جھوٹی اور جعلی خبروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ،یہ خبریں وہیں سے آ رہی ہیں جہاں سے آتی ہیں ،کوئی کہیں نہیں جا رہا ،گھٹیا حرکتوں کے بجائے میدان میں آئیں،ہم چھوٹی لڑائیوں سے بچ رہے ہیں ۔احتجاج پیپلزپارٹی کا پہلا تجربہ نہیں ،حکمرانوں کو بھی پتہ یہ کتنے پانی میں ہیں ،کارنر میٹنگز جلسے اور جلسے کیا رخ اختیار کریں گے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ ناصر باغ کے احتجاج کے بعد بلاول بھٹو حکومت مخالف احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے ۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…