بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

’’شریف خاندان کا دفاع ‘‘ اور 822کروڑ کا خرچہ،حکومت نے حد ہی کردی، حیرت انگیزانکشافات

datetime 1  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )تحریک انصاف نے وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے ذاتی دفاع کے لیے وزارت خارجہ کے غیر قانونی استعمال پر سوالات اٹھا دئیے۔تحریک انصاف کی سینئیر رہنما عندلیب عباس کی جانب سے وزیر اعظم کے پرسنل سیکرٹری کے نام خط لکھ میں 21یوم کے اندرسوالات کے جوابات مانگ لیے گئے۔بصورت دیگر جوابات کا نہ ملنا واضح طور پر قانون اور آئین کی خلاف ورزی شمار کیا جائے گا،

پیر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ دنیابھر میں تمام پاکستانی سفارتخانوں کو پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد شریف خاندان کے دفاع کے لیے تحریری ہدایات کیوں دی گئیں،وزارت خارجہ اور اسکے اداروں کا کام ملکی سلامتی اور قومی تشخص کا دفاع ہے، وزارت خارجہ نے کس مد میں 822کروڑ خرچ کر کے 35ہائی سیکیورٹی گاڑیاں خرید کیں،اسلام آباد میں قازقستان ایمبیسی کی تعمیر کے لیے CDAکو کیوں 107کروڑادا کیے گئے، مذکورہ رقوم کے اجرا سے قبل آئین کے عین مطابق پارلیمان سے اجازت کیوں نہیں لی گئی، محکمہ خارجہ نے پانامہ کیس کے بارے میں جھوٹا پروپیگینڈا کرتے ہوئے اسے اپوزیشن کی اختراح کیوں قرار دیا، محکمہ خارجہ نے دنیا میں نواز شریف کو تن تنہادہشت گردی کا مقابل بتا کر قومی عسکری اداروں اور دیگر قومی سیاسی جماعتوں کے کردار کی دانستہ نفی کیوں کی، 21یوم کے اندرسوالات کے جوابات کا نہ ملنا واضح طور پر قانون اور آئین کی خلاف ورزی شمار کیا جائے گا محکمہ خارجہ نے پانامہ کیس کے بارے میں جھوٹا پروپیگینڈا کرتے ہوئے اسے اپوزیشن کی اختراح کیوں قرار دیا، محکمہ خارجہ نے دنیا میں نواز شریف کو تن تنہادہشت گردی کا مقابل بتا کر قومی عسکری اداروں اور دیگر قومی سیاسی جماعتوں کے کردار کی دانستہ نفی کیوں کی، 21یوم کے اندرسوالات کے جوابات کا نہ ملنا واضح طور پر قانون اور آئین کی خلاف ورزی شمار کیا جائے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…