بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

گیم اُلٹ گئی،بھارت اورافغانستان کو بڑا جھٹکا

datetime 28  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سینئر تجزیہ کار طلعت مسعود نے کہا ہے کہ اگر خطہ عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو افغانستان کے حالات اور خراب ہوں گے،پاکستان اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی پوزیشن میں ہے مگرافغانستان کے حالات بدتر ہونے جارہے ہیں ،بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ جب تک وہ سیاسی طور پر پاکستان سے بات چیت نہیں کرے گا اور ان سرگرمیوں میں ملوث رہے گا تو اس کو نقصان پہنچے گا۔

بدھ کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے طلعت مسعود نے کہا کہ پاکستان کو بہت عرصے سے علم تھا کہ انڈیا کس طریقے سے ان لوگوں کی مدد کر رہا ہے اور افغان حکومت یا تو بے بس ہے یا ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈیا ان کو فنڈنگ کرتا ہے اگر خطہ عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو افغانستان کے حالات اور خراب ہوں گے،پاکستان اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی پوزیشن میں ہے مگرافغانستان کے حالات بدتر ہونے جارہے ہیں ،بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ جب تک وہ سیاسی طور پر پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ شروع نہیں کرے گااور ان سرگرمیوں میں ملوث رہے گا تو اس کو بھی نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان میں جو کر رہا ہے وہ سب ضائع ہوگا کیونکہ افغانستان میں جس طرح افراتفری بڑھ رہی ہے حکومت کا کنٹرول کم ہوگیا ہے،طالبان زورپکڑ رہے ہیں،یہ تمام چیزیں پاکستان کو نقصان پہنچانے سے بہتر نہیں ہوں گی بلکہ معاملات اور خراب ہوں گے۔دریں اثناء دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب نے کہا ہے کہ احسان اللہ احسان کا اعترافی بیان اہم پیشرفت ہے اور نوجوان نسل کیلئے پیغام ہے کہ ان کی تحریک کو شر کی تحریک سمجھا جائے،ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے ہونا چاہیے تاکہ کوئی ان سے ہمدردی نہ رکھے،امریکہ 16سال سے بیٹھا ہو اور اس کی ناک کے نیچے یہ سارا کھیل ہو رہا ہو،اسے پتہ نہ ہو یہ سوائے منافقت کے اور کوئی بات نہیں ہے۔

بدھ کو نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے امجد شعیب نے کہا کہ احسان اللہ احسان کا بیان اہم پیشرفت ہے اور ہماری نوجوان نسل کیلئے خاص طور پر پیغام ہے کہ اس تحریک کو خالصتاً شر کی تحریک سمجھا جائے،ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے ہونا چاہیے تاکہ کوئی ان سے ہمدردی نہ رکھے،جن لوگوں کو ان سے ہمدری ہے ان کو احساس ہونا چاہیے کہ یہ لوگ شر پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ 16سال سے بیٹھا ہو اور اس کی ناک کے نیچے یہ سارا کھیل ہورہا ہو ،اسے پتہ نہ ہو یہ سوائے منافقت کے اور کوئی بات نہیں ہے ان کو سب پتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…