منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

چترال،توہین مذہب کے ملزم کو بچانے والے امام مسجد کے ساتھ کیا ہوا؟ حیرت انگیز انکشافات‎‎

datetime 26  اپریل‬‮  2017 |

چترال (مانیٹرنگ ڈیسک)مردان میں مشال خان کوتوتوہین کے الزام میں قتل کرنے کے بعد اس کے آبائی شہرصوابی میں ایک امام مسجد نے نمازجنازہ تک پڑھانے سے انکارکردیاتھا لیکن دوسری طرف چترال میں ایک عالم دین نے توہین مذہب کے ملزم کولوگوں کے تشدد سے بچاکراسلام کی تعلیمات کاعملی نمونہ پیش کردیااورمشتعل عوام کوقانون اپنے ہاتھ میں لینے سے روک کرعلاقے کوبڑے سانحہ سے بچالیاہے۔

تفصیلات کے مطابق چترال کی شاہی مسجد کے امام مولانا خالق الزمان نے توہین مذہب کے مرتکب ایک شخص کو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا کر پولیس کے حوالے کردیاجس سے اس شخص کی جان بچ گئی اوریہ جان بچانے پرمولاناخالق الزمان کومختلف حلقوں نے خراج تحسین پیش کیاہے کہ انہوں نے مشتعل لوگوں کوقانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا بلکہ بروقت اس کوپولیس کے حوالے کرکے اپناقومی فریضہ سرانجام دیا۔اس موقع پرمولاناخالق الزمان نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میں نے ملزم کو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچا کر اور پولیس کے حوالے کر کے بطور امام مسجد اپنا فریضہ انجام سرانجام دیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔مولاناخالق الزمان نے کہاکہ میں نے یہ کام کسی کی خوشنودی نہیں بلکہ اللہ تعالی کی رضاکےلئے کیااورمجھے کسی کے انعام کالالچ تک نہیں بلکہ اس کااجرمجھے اللہ تعالی دے گا۔انہوں نے کہاکہ میں نے توہین مذہب کے مرتکب ایک شخص کوبچاکرمسجدکوخون آلودہ ہونے سے بچالیا۔انہوں نے کہاکہ اسلام اس طرح کے تشدد پسندانہ رویے کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نےکہاکہ اسلامی علما نے ہمیشہ معاشرے کو صبر اور امن کی تلقین کرتے رہے ہیں ۔ مولاناخالق الزمان نے کہاکہ اگرمجھے اس معاملے میں پولیس نے طلب کیاتومیں اپنابیان ضرورریکارڈکرائوں گا۔

دوسری طرف توہین مذہب کے اس ملزم کو22اپریل کومجسٹریٹ کے سامنے پیش کیاگیااورعدالت میں ملزم نے اپنے اوپرلگائے گئے تمام الزامات مستردکردیئے جبکہ عدالت نے ملزم کی ذہنی حالت کامعائنہ کرنے کے لئے میڈیکل بورڈتشکیل دینے کاحکم جاری کیاہے اوررپورٹ عدالت میں جمع کرانے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں ۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…