پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

یہودی فلسطین پر کیسے قابض ہوئے؟

datetime 25  اپریل‬‮  2017 |

اب سے کوئی 80 برس قبل تک پورے فلسطین میں کسی ایک جگہ بھی کوئی یہودی بستی موجود نہیں تھی۔عثمانی خلفاء نے پابندی لگا رکھی تھی کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں رہنے والے یہودی اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے وزٹ ویزے پر فلسطین آسکتے ہیں اور چند روز قیام کرسکتے ہیں لیکن انہیں فلسطین میں زمین خریدنے اور آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی۔

عثمانی خلفاء کے علم میں یہ بات تھی کہ یہودی فلسطین میں بتدریج آباد ہونے اور اس پر قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ وہ اسرائیل کے نام سے اپنی ریاست قائم کر سکیں۔ اس لیے اس سلسلہ میں عثمانی خلافت کا رویہ بے لچک تھا اور وہ کسی قیمت پر یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا موقع فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ چنانچہ سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے کہ یہودیوں کی عالمی تنظیم کے سربراہ ہرتزل نے متعدد بار ان سے خود ملاقات کر کے خواہش ظاہر کی کہ وہ فلسطین میں زمین خرید کر محدود تعداد میں یہودیوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں مگر سلطان مرحوم نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ ایک بار ہرتزل نے سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم کے سامنے چیک بک رکھ کر منہ مانگی رقم دینے کی پیشکش کی جس کے جواب میں سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم نے انتہائی تلخ لہجے میں ہرتزل کو ڈانٹ دیا اور اس سے کہا کہ میری زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد وہ ہرتزل سے ملاقات کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے۔ سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم کے خلاف اس کے بعد تحریک چلی اور انہیں خلافت سے معزول کر کے نظر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ان کے خلاف ترکی میں چلنے والی تحریک اور ان کی معزولی میں یہودیوں کا ہاتھ تھا اور انہیں خلافت سے معزولی کا پروانہ پہنچانے والوں میں ترکی کی پارلیمنٹ کا یہودی ممبر بھی شامل تھا۔ 1920

ء میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد فلسطین اس کی عملداری سے نکلا تو اسے برطانیہ نے اپنے کنٹرول میں لے لیا اور برطانوی گورنر کی زیر نگرانی یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دنیا کے مختلف حصوں سے یہودی آتے اور فلسطین میں زمین خرید کر آباد ہو جاتے۔ اس موقع پر سرکردہ علماء کرام نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ فتویٰ دیا کہ چونکہ یہودی فلسطین میں آباد ہو کر بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی ریاست قائم کرنے کے خواہشمند ہیں اس لیے یہودیوں پر فلسطین کی زمین فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے اور فلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اراضی یہودیوں کو فروخت نہ کریں۔ اس فتویٰ کے سلسلہ میں اگر قارئین مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہوں تو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب’’بوادر النوادر‘‘میں اسی موضوع پر خود ان کا تفصیلی فتویٰ موجود ہے اسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر علماء کرام کی یہ مہم کارگر نہ ہوئی اور چونکہ یہودی دگنی تگنی قیمتوں پر زمین خرید رہے تھے اس لیے فلسطینیوں نے رقم کی لالچ میں علماء کرام کے فتویٰ کو نظر انداز کر دیا جس کا نتیجہ آج پون صدی کے بعد سب کے سامنے ہے کہ فلسطین کے بیشتر علاقوں پر یہودی قابض ہیں۔ اسرائیلی ریاست نہ صرف قائم ہوچکی ہے بلکہ پوری عرب دنیا کے لیے ناسور کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے، بیت المقدس پر یہودی اقتدار قائم ہو گیا ہے،

فلسطینی خود اپنے ملک میں بے وطن تصور کیے جارہے ہیں جبکہ یہودیوں اور ان کے عالمی استعماری سر پرستوں نے پوری دنیامیں ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…