منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

کراچی ڈی آئی جی پشاور کے بیٹے کا پراسرار قتل،اصل وجہ کیاتھی،گھر میں کون کون موجود تھا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

کراچی (آئی این پی ) ڈیفنس خیابان سحر میں ڈی آئی جی پشاور شہاب مظہر کے بیٹے کا پراسرار قتل ، بنگلے پر تعینات پولیس گارڈ نے پھندا لگا کر مارا۔ پولیس کو گھر میں ڈاکو گھسنے کی اطلاع ملی تھی۔ متضاد بیانات سے معاملہ مشکوک ، پولیس نے گارڈ کو حراست میں لے لیا۔ پولیس گارڈ فقیر محمد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھے 2 لاکھ روپے کی ضرورت تھی ، عمیر شہاب سے مانگے تو جھگڑا ہوگیا۔

مالکن کے پاس پیسے مانگنے کیلئے جانے کی کوشش کی تو ہاتھا پائی ہوگئی ، ملزم نے کہا کہ قتل نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جھگڑے کے دوران عمیر ہلاک ہوگیا ، دوسرا سیکورٹی گارڈ واقعے کے وقت سورہا تھا ، جس نے ڈی آئی جی کو واقعے کی اطلاع دی ،واقعے کے وقت گھر میں آئی جی کی دو بیٹیاں اور اہلیہ بھی موجود تھی ، پولیس کے مطابق پشاور کے ڈی آئی جی انکوائریز اینڈ انسپیکشن شہاب مظہر ولی کے بیٹے عمیر شہاب کو ان کے گھر کی حفاظت پر مامور پولیس گارڈ فقیر محمد نے ہاتھا پائی کے دوران قتل کیا۔ عمیر شہاب کو قتل کرنے کے بعد ملزم نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا تاہم پولیس نے کمرے کا دروازہ توڑ کر اسے حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق دوران حراست پولیس گارڈ فقیر محمد نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ عمیر کی والدہ سے 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کررہا تھا، جو اس نے گاؤں میں موجود اپنے اہل خانہ کو بھیجنے تھے، فقیر محمد نے جب رقم کے مطالبے کے لیے عمیر شہاب کی والدہ سے ملنے کی کوشش کی تو عمیر نے اس کا راستہ روک لیا اور اوپری منزل پر موجود والدہ کے کمرے میں جانے سے روکا۔ رات ڈھائی بجے پیش آنے والی اس کارروائی کے دوران فقیر محمد نے عمیر شہاب سے ہاتھا پائی کرتے ہوئے اس کے گلے میں رسی ڈالی اور گلا گھونٹ کر نوجوان کو قتل کردیا۔

واقعے کے بعد پولیس نے سیکیورٹی گارڈ کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کردیا۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزم فقیر محمد کا تعلق کشمور سے تھا اور وہ گذشتہ 6 سے 7 ماہ سے ڈی آئی جی پشاور کے کراچی میں واقع گھر میں سیکیورٹی گارڈ کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا تھا۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش کیلئے تھانے منتقل کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…