بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی ڈی آئی جی پشاور کے بیٹے کا پراسرار قتل،اصل وجہ کیاتھی،گھر میں کون کون موجود تھا،حیرت انگیزانکشافات

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

کراچی (آئی این پی ) ڈیفنس خیابان سحر میں ڈی آئی جی پشاور شہاب مظہر کے بیٹے کا پراسرار قتل ، بنگلے پر تعینات پولیس گارڈ نے پھندا لگا کر مارا۔ پولیس کو گھر میں ڈاکو گھسنے کی اطلاع ملی تھی۔ متضاد بیانات سے معاملہ مشکوک ، پولیس نے گارڈ کو حراست میں لے لیا۔ پولیس گارڈ فقیر محمد نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ مجھے 2 لاکھ روپے کی ضرورت تھی ، عمیر شہاب سے مانگے تو جھگڑا ہوگیا۔

مالکن کے پاس پیسے مانگنے کیلئے جانے کی کوشش کی تو ہاتھا پائی ہوگئی ، ملزم نے کہا کہ قتل نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جھگڑے کے دوران عمیر ہلاک ہوگیا ، دوسرا سیکورٹی گارڈ واقعے کے وقت سورہا تھا ، جس نے ڈی آئی جی کو واقعے کی اطلاع دی ،واقعے کے وقت گھر میں آئی جی کی دو بیٹیاں اور اہلیہ بھی موجود تھی ، پولیس کے مطابق پشاور کے ڈی آئی جی انکوائریز اینڈ انسپیکشن شہاب مظہر ولی کے بیٹے عمیر شہاب کو ان کے گھر کی حفاظت پر مامور پولیس گارڈ فقیر محمد نے ہاتھا پائی کے دوران قتل کیا۔ عمیر شہاب کو قتل کرنے کے بعد ملزم نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا تاہم پولیس نے کمرے کا دروازہ توڑ کر اسے حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق دوران حراست پولیس گارڈ فقیر محمد نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ عمیر کی والدہ سے 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کررہا تھا، جو اس نے گاؤں میں موجود اپنے اہل خانہ کو بھیجنے تھے، فقیر محمد نے جب رقم کے مطالبے کے لیے عمیر شہاب کی والدہ سے ملنے کی کوشش کی تو عمیر نے اس کا راستہ روک لیا اور اوپری منزل پر موجود والدہ کے کمرے میں جانے سے روکا۔ رات ڈھائی بجے پیش آنے والی اس کارروائی کے دوران فقیر محمد نے عمیر شہاب سے ہاتھا پائی کرتے ہوئے اس کے گلے میں رسی ڈالی اور گلا گھونٹ کر نوجوان کو قتل کردیا۔

واقعے کے بعد پولیس نے سیکیورٹی گارڈ کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کردیا۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ملزم فقیر محمد کا تعلق کشمور سے تھا اور وہ گذشتہ 6 سے 7 ماہ سے ڈی آئی جی پشاور کے کراچی میں واقع گھر میں سیکیورٹی گارڈ کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا تھا۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش کیلئے تھانے منتقل کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…