بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

پاکستانی شخص نے نبوت کا دعویٰ کردیا ۔۔ یہ کون ہے ؟ تعلق کہاں سے ہے ؟ حالات کشیدہ ۔۔ پاک فوج پہنچ گئی ‎

datetime 22  اپریل‬‮  2017 |

چترال (مانیٹرنگ ڈیسک) عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا کہ چترال میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آتے آتے رہ گیا۔ مشال خان پر توہین مذہب کا الزام عائد کرکے مشتعل ہجوم نے اسے یونیورسٹی ہاسٹل میں نہایت بیدردی سےقتل کردیا تھا۔ چترال کے بھی ایک مبینہ طور پر ذہنی معذور شخص رشیدنامی شخص نے نماز جمعہ

کے بعد شاہی مسجد میں موجود لوگوں سے بات کرنے کے لیے امام مسجد کو دھکا دیا اور مبینہ طور پر نبی ہونے کا دعویٰ کیا جس پر مسجد میں موجود نمازی مشتعل ہوگئے اور اسے مسجد میں ہی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ مسجد میں موجود افراد مبینہ طور پر گستاخانہ کلمات بولنے والے شخص کو اس وقت تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے، جب تک امام نے اس کی جان بچانے کی خاطر اسے پولیس کے حوالے نہیں کردیا۔ مشتعل نمازیوں اور ہجوم کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر جب پولیس نے دیکھا کہ معاملات اس کے کنٹرول سے باہر ہیں تو پولیس نے مدد کیلئے فوج سے درخواست کی جس پر پاک فوج کے اہلکار فوری ردعمل دیتے ہوئے موقع پر پہنچ گئے ۔ اس موقع پر مشتعل ہجوم کو کنٹرول کرنا اور مبینہ نبوت کے جھوٹے دعویدار رشید کی جان کو عدالت تک پہنچنے سے پہلے بچانا مقصود تھا۔ پاک فوج کے ایک ذہین اور بہادر فوجی افسر نے نہایت اطمینان اور حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئےنہایت مدلل دلائل کے ذریعے انتہائی جذباتی مشتعل ہجوم کو کنٹرول کیا۔فوجی افسر نے ہزاروں کے مجمع سے سوال کیا کہ یہ غلط نہیں ہو گا، کہ وہ خود بھی ایک شخص کی جانب سے نبوت کا دعویٰ کرنے پر ناراض اور مشتعل ہو جائیں جبکہ یہ میرےبھی بنیادی مذہبی عقائد میں سے ایک ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی تھے اور رہیں گے۔

فوجی افسر نے ایسا کہا تو مجمع میں سے کسی شخص نے با آواز بلند فوجی افسر سے پوچھا کہ اس طرح کے جرم کیلئے کیا سزا ہونی چاہئے؟ توپاک فوج کے جہاندیدہ اور حاضر دماغ افسر نے نہایت ٹھوس اور مدلل انداز میں کہا کہ اسے پولیس کے حوالے کیا جانا چاہئے تاکہ پاکستانی قانون کے ذریعے اس کا فیصلہ ہو جو کہ ضروری ہے نا کہ بہیمانہ تشدد کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔

جس پر ہجوم کے افراد مبینہ گستاخ رشید نامی شخص کو مارنے سے باز آگئے اور پاک فوج کے افسر کو مبینہ گستاخ رشید کے خلاف مقدمہ میں رضاکارانہ گواہی کے طور پر اپنا آپ پیش کرنے لگ گئے ۔ مشتعل ہجوم کے جذبات کا رخ جب قتل کے ارادے سے بدلتا پایا تو پاک فوج کے افسر نے مبینہ گستاخ رشید کو پولیس حراست میں مشتعل ہجوم کے بیچ میں سے دیگر فوجی اہلکاروں کی

مدد سے نکال کر تھانے منتقل کروایا۔مشتعل ہجوم نے تاہم تھانے کا گھیرائو بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ مبینہ گستاخ رشید سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ چند دنوں پہلے قطر سے وطن واپس لوٹا ہے اور ذہنی بیماری شجوفرینیا کا مریض ہے جس میں مریض ایک خیالی دنیا اپنے ذہن میں آباد کر لیتا ہے ۔تاہم مبینہ گستاخ رشید کو اس کی ذہنی صحت کی جانچ کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…