جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

’’صورت شمشیرہیدست قضامیں وہ قوم‘‘کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب‘‘،نوازشریف ،حسن اورحسین نوازکے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 20  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن ) پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے پانچویں رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے موقف میں لکھا ہے کہ 26سماعتوں میں پتہ نہ چل سکا کہ مے فئیر فلیٹ کا ما لک کون ہے تاہم وزیراعظم نواز شریف کی بے نامی جائیداد کے امکان کورد نہیں کیاجاسکتا۔نواز شریف کو تفتیش میں جائیداد کی ملکیت کا ثبوت دینا ہوگا اورمنی ٹریل بھی دینی ہوگی۔حسین نواز کو سعودی عرب میں ملزبنانے کے لیے آمدنی کے ذریعے

بتانے ہوں گے۔جسٹس اعجاز الاحسن کے مطابق نواز شریف نے احتساب کا سامنے کرنے کے لیے بلند دعوے کیاتھے جو کھوکھلے ثابت ہوئے، نواز شریف، حسین نواز، حسن نوازالزمات کو رد کرتے ہوے نظرنہیں آے، اور نہ ہی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت فراہم کیے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ زیادہ تر سوالات نواز شریف ور ان کے بچول نے ان کے جوابات تسلی بخش نہ دیئے انہیں سعودیہ میں اسٹیل ملز لگانے لے لیے آمدن کے زریعے بھی بتانے ہوگے، جسٹس اعجاز الاحسن کے مطابق پنامہ کیس میں چیرمین نیب جانبدار ثابت ہوئے تاہم ہر سطح کا احتساب کرنے کا نظام واضح کرنا وقت کی ضرورت ہے ان کا کہنا ہے کہ قوم کو پتہ ہونے چاییے کہ ان پر حکومت کرنے والے آئین پاکستان پر پورااترتے ہیں یا نہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنی رائے میں یہ شعر بھی لکھا ہے کہ ’’صورت شمشیرہیدست قضامیں وہ قوم‘‘کرتی ہے جو ہرزماں اپنے عمل کا حساب‘‘۔انہوں نے اپنے فیصلہ کے آخر میں مقدمہ میں دلائل دینے والے تمام وکلاء کی تعریف بھی کی ہے۔جسٹس اعجاز افضل خان نے فیصلہ میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف ٹیکس چوری کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیااورکیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کے خلاف بھی کوئی ٹھوس چیز سامنے لائی گئی، جس پر انکی اہلی کا حکم دیا جاتا۔ بظاہر وزیراعظم، ا نکے بچوں

اور بے نامی اداروں نے نوے کی دہائی کی ابتدا میں اثاثے بنائے ،جسٹس اعجاز افضل کے مطابق اس امر کی تحقیق کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اثاثے جائز ذرائع سے بنائے گئے۔وزیراعظم کے خلاف جو الزامات لگائے گئے انکی تحقیقات کی ضرورت ہے انہوں نے کہا ہے کہ اس موقع پر ہم اس معاملے پر اپنی کوئی رائے نہیں دے رہے،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ موصول ہونے پر وزیراعظم کی نااہلی کے معاملے پر غور کیا جائے گا اور معاملے پر غور کے بعد ضروری ہوا تو نااہلی کا حکم جاری کیا جائے گا،جسٹس اعجاز افضل نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے چیف جسٹس خصوصی بینچ تشکیل دیں کیونکہ خصوصی بینچ کی تشکیل اس لیے ضروری ہے کہ معاملے کی تحقیقات ادھوری نہ رہ جائیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم اورانکے بچوں کے بیان میں تضاد سے جھوٹ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ بیانات میں تضاد اور جھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے جرح ضروری ہے ، وزیراعظم اور انکے بیٹوں کے بیانات میں تضاد موجود ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی ایک سچا اور دوسرا جھوٹا ہے تاہم وزیراعظم کے سچا یا جھوٹا ہونے کا فیصلہ بغیر تحقیق و جرح ثابت نہیں کیا جاسکتا،جسٹس اعجاز افضل خان کے مطابق حسن نواز اور حسین نوازکے بیانات درست ثابت ہوئے تو وزیراعظم کا بیان جھوٹا تصور ہوگا،وزیراعظم کو بیانات کی بنیاد نااہل قرار دینے کے لیے بھی ان سے تحقیق ضروری ہے تاہم بیانات میں تضاد کے معاملے کی تفتیش نہیں کی گئی اور تفتیش کے بغیر کسی کو بھی جھوٹا قراردینا قانون شہادت کے خلاف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…