بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

’’میاں صاحب اتنی بجلی تو دیدیں فون چارج کر کے شیر آیا شیر آیا لکھ سکیں‘‘

datetime 20  اپریل‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی دلچسپ اور تند و تیز بیانات آتے رہے۔کچھ لوگ وزیر اعظم کے نااہل ہونے کا خطرہ ٹلنے پر ان کا ساتھ دینے کے ساتھ ساتھ بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر طنز کرنا نہیں بھولے۔ متعدد بار شیئر کی جانے والی ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے میاں صاحب اتنی بجلی تو دے دیں کہ فون چارج کر کے شیر آیا شیر آیا لکھ سکیں۔ایک صارف نے لکھا کہ ان نون لیگی کارکنوں کے لیے

ایک منٹ کی خاموشی جو سپریم کورٹ کے فیصلے پر جشن منا رہے ہیں کیونکہ کسی ایک بھی جج نے وزیر اعظم کو معصوم قرار نہیں دیا۔دو ججوں کے وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کے حق میں فیصلہ دینے پر ٹویٹ کیا گیا کہ کاش شیخ رشید دو کے بجائے تین بکروں کا صدقہ دیتے تو فیصلہ مختلف ہوتا۔ایک خاتون نے لکھا کہ دونوں ہی جماعتیں جشن منا رہی ہیں لیکن اس میں عوام کہاں ہیں؟۔ایک فیس بک صارف نے لکھا میچ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوا ہے، اگلی سیریز کا انتظار کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…