اسلام آباد(آئی این پی)پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ جنہوں نے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف فیصلہ دیا ہے کہ ایک بھائی ناصر کھوسہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں جبکہ دوسرے بھائی طارق کھوسہ وفاقی سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے عہدے پر تعینات رہے جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان کا قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کو
الیکشن کمیشن کا رکن مقرر کرنے کیلئے دیا تھا ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ 18فروری 2010کو سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے ، سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ 31دسمبر2016کو سپریم کورٹ کا سینئر جج بن گئے ان کے دو بھائی ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ایک بھائی ناصر کھوسہ 2013کے عام انتخابات کے بعد وزیراعظم نوازشریف کے سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کئے گئے اور مدت ملازمت مکمل ہونے پر وزیراعظم نے اپنی واشنگٹن میں عالمی بینک کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کروادیا ۔ناصر کھوسہ چیف سیکرٹری پنجاب ،سیکرٹری خزانہ سمیت دیگر اہم عہدوں پر بھی تعینات رہے وہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے دور میں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے پر تعینات رہے ، ان کے تیسرے بھائی طارق کھوسہ ڈی جی ایف آئی اے ،آئی جی بلوچستان اور سیکرٹری نارکوٹکس ڈویژن تعینات رہے ۔ طارق کھوسہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس کی تفتیش بھی کراتے رہے جبکہ ممبئی حملہ کیس کی بھی طارق کھوسہ نے تحقیقات کیں ۔ گزشتہ سال الیکشن کیشن کے چار ممبران کی تقرری کے موقع پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان کا نام تحریک انصاف کی طرز سے ممبر الیکشن کمیشن کے طور پر دیا تھا۔