بدھ‬‮ ، 28 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان نے وزیراعظم سے استعفے کے بعدنیامطالبہ کرکے پیپلزپارٹی کوخوش کردیا

datetime 20  اپریل‬‮  2017 |

ا سلام آباد( آن لائن )تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکنوں اور عوام کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج سپریم کورٹ نے تاریخ سازفیصلہ دیا ہے، عدالت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ایسا فیصلہ کبھی نہیں آیا ،مستقبل کے دو چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ان کو گھر بھیج دو یہ جج ملک کے معزز جج ہیں اور انھوں نے کہا

کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے،ان کے خلاف عزیر بلوچ کی طرح کریمنل تفتیش ہوگی تو ان کے پاس وزیراعظم رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نوازشریف کے وزیراعظم رہتے ہوئے آزادانہ تحقیقات نہیں کرسکتی لہذا انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہوں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے یوسف رضاگیلانی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور آج وہ خود اس صورتحال کا شکار ہیں ‘انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں اور عوام کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج سپریم کورٹ نے تاریخ سازفیصلہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج کے دو اداروں کے علاوہ باقی تمام ادارے وزیراعظم کے نیچے ہیں اور قوم کس طرح ان سے آزادانہ تحقیقات کی توقع رکھ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کہ نون لیگی کس چیزکی خوشیاں منا رہے ہیں اس لیے کہ انہیں 60دن کی مہلت ملی ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں عدالت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ایسا فیصلہ کبھی نہیں آیا انھوں نے کہا کہ آج قوم کے سامنے پانچوں ججوں کا مشترکہ طور پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ آیا ہے جس کا مطلب یہ سپریم کورٹ میں جو ثبوت جمع کیے گئے وہ ناکافی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے دو چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ان کو گھر بھیج دو یہ جج ملک کے معزز جج ہیں اور انھوں نے کہا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے۔چیئرمین

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں پاکستانی قوم کی طر سے نواز شریف کو کہتا ہوں کہ وہ فوری طور پر استعفیٰ دے کیونکہ ان کے پاس وزیر اعظم رہنے کا کون سا اخلاقی جواز رہ گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف عزیر بلوچ کی طرح کریمنل تفتیش ہوگی تو ان کے پاس وزیراعظم رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے خوشیاں منائے جانے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ کس چیز کی مٹھائی تقسیم کی جارہی ہیں اس لیے کہ سپریم کورٹ کے دو جج نے کہا ہے کہ وزیراعظم جھوٹا ہے جبکہ تین ججوں نے بھی ایک چیز قطری خط نہیں مانا اس لیے جے آئی ٹی بنی ہے اس لیے خوشیان منائی جارہی ہیں، جھوٹ بولنے کی خوشیاں منارہے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ بھی کہہ چکی ہے کہ نیب ٹھیک کام نہیں کررہا ہے اسی لیے ان کی موجودگی میں ادارے اچھی طرح تفتیش نہیں کرسکیں گے اس لیے انھیں فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں شامل سوائے دو اداروں کے باقی نواز شریف کے زیر کام کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم فوری مستعفی ہوں اور اگر 60 روز کے بعد یہ شفاف قرار دیے جاتے ہیں تو واپس آجائیں کیونکہ یہی مطالبہ انھوں نے یوسف رضا گیلانی سے کیا تھا۔ایک سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ صرف 60 دن کی بات ہے اس کے بعد جشن منائیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کو مبارک دیتے ہوئے کہا کہ اب وزیراعظم اور ان کے بچوں سے تفتیش ہوگی اور اگر ہمارے کارکن جدوجہد نہیں کرتے تو آج یہ نہیں ہونا تھا۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تفتیش کے لیے نیب، اسٹیٹ بینک، آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ سنایا تھا جو 60 روز میں تفتیش کرکے اپنی رپورٹ بنچ میں جمع کرے جس کے بعد حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…