بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

ن لیگ کی خوشیاں پھیکی پڑ گئیں۔۔پانامہ کیس فیصلے میں سنسنی خیز موڑ ۔۔ ’گاڈ فادر‘ کے ایک جملے نے پانسہ پلٹ دیا ‎

datetime 20  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے پانامہ کیس فیصلے سنا دیا۔یہ فیصلہ 547صفحات پر مشتمل ہے جس میں سماعت کرنے والے 5رکنی بنچ کے دو سینئر ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس اعجاز افضل نے اپنے فیصلے میں وزیراعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ باقی تین ججز جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس گلزار نے وزیراعظم

اور ان کے بچوں کے خلاف جے آئی ٹی کے تحت تحقیقات کا حکم دیا ہے۔یوں فیصلے کا تناسب3:2رہا۔عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں رقم قطر جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے‘ جے آئی ٹی میں نیب ‘ آئی ایس آئی ‘ ایم آئی ‘ ایف آئی اے اور سیکیورٹی ایکسچینج کے نمائندہ شامل ہونگے۔ جے آئی ٹی اپنی حتمی رپورٹ 60روز میں مرتب کر کے پیش کرنے کی پابند جبکہ ہر 15روز بعد تحقیقات پر پیشرفت سے بھی پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کو رپورٹ دیا کرے گی۔ پانامہ کیس فیصلے میں 1969 میں شائع ہونے والے ناول ’گاڈ فادر‘کا بھی تذکرہ ہے۔پانامہ کیس فیصلے میں ناول سے ایک جملہ اقتباس کے طور پر لیا گیا ہے کہ ’’ہرعظیم خزانے کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے‘‘۔ یہ ناول ایک اطالوی مافیا باس کی زندگی پر مبنی ہے ۔ اس مافیا باس کے پاس اتنی کثیر تعداد میں دولت تھی کہ اس سے متعلق مشہور ہے کہ اس کی ماہانہ آمدن کے طور پرآنے والے کرنسی نوٹ باندھنے کے لیے ہی صرف ہرماہ ڈھائی ہزارڈالر کی ربربینڈ خریدی جاتی تھی۔اس کی موت کے بعد جب اس کی غیر قانونی دولت کا تخمینہ لگایا گیا تومعلوم ہوا کہ اس کی ہفتہ وار کمائی 400 ملین ڈالر سے تجاویز کر چکی تھی۔ اس حوالے سے مافیا باس کے بیٹےنے ایک انٹرویو میں انکشاف کرتے ہوئے کہا تھاکہ جو رقم سامنے آئی وہ کل جمع شدہ غیر قانونی رقم کاصرف ایک فیصد بھی نہیں جو میرا باپ منشیات کی اسمگلنگ سے کماتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…