منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

’’عمران اکیلا نہیں میں اس کے ساتھ ہوں ‘‘ آصف علی زرداری میدان میں آگئے ۔۔ پی پی اور پی ٹی آئی مل کر نواز شریف کے خلاف کیا کام کرنے جا رہے ہیں ؟ ‎

datetime 20  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان نے وزیر اعظم نوازشریف سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق پاناما کیس فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میںپانامہ کیس فیصلے جیسا کبھی فیصلہ نہیں آیا، سپریم کورٹ کے ججز خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا تمام ججز نے نوازشریف کی طرف سے پیش کئے گئے شواہد کومسترد کردیا جبکہ آمدنی کا ذریعہ اور منی ٹریل کے طور پر پیش کیا گیا قطری شہزادے کا خط مسترد کر دیا ہے۔کپتان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے پاس وزیراعظم رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے عزیربلوچ پر جے آئی ٹی تحقیقات کررہی ہے، عزیر بلوچ کی طرح جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے پر نواز شریف کی کیا عزت رہ جائے گی ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ نوازشریف نے یوسف رضا گیلانی کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیاتھااب ہم وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 60 دن میں کلیئر ہوکر آپ واپس آسکتے ہیں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی نےبھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین آصف زرداری نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ کیس فیصلے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں جو کام سپریم کورٹ کے ججز نہیں کر سکتے وہ کام کیا وزیراعظم کے ماتحت 19گریڈ کے افسر کر سکیں گے۔ ان کا اشارہ جے آئی ٹی کی جانب تھا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے، پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے دو سینئر ججز نے ان کے

خلاف فیصلہ دیا ہے جبکہ ن لیگ اس پر مٹھائیاں بانٹ رہی ہے، ججز کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تحت کارروائی کی جائے دوسری جانب خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ آصف زرداری نے اس موقع پر کہا کہ عمران خان کو چاہئے کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحریری فیصلہ سامنے آنے پر ہماری وکلا اس کا جائزہ لیں گے اور اس پر مناسب ردعمل ہم اسی وقت دے سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…