جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

’’عمران اکیلا نہیں میں اس کے ساتھ ہوں ‘‘ آصف علی زرداری میدان میں آگئے ۔۔ پی پی اور پی ٹی آئی مل کر نواز شریف کے خلاف کیا کام کرنے جا رہے ہیں ؟ ‎

datetime 20  اپریل‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان نے وزیر اعظم نوازشریف سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق پاناما کیس فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میںپانامہ کیس فیصلے جیسا کبھی فیصلہ نہیں آیا، سپریم کورٹ کے ججز خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا تمام ججز نے نوازشریف کی طرف سے پیش کئے گئے شواہد کومسترد کردیا جبکہ آمدنی کا ذریعہ اور منی ٹریل کے طور پر پیش کیا گیا قطری شہزادے کا خط مسترد کر دیا ہے۔کپتان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے پاس وزیراعظم رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے عزیربلوچ پر جے آئی ٹی تحقیقات کررہی ہے، عزیر بلوچ کی طرح جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے پر نواز شریف کی کیا عزت رہ جائے گی ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ نوازشریف نے یوسف رضا گیلانی کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیاتھااب ہم وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 60 دن میں کلیئر ہوکر آپ واپس آسکتے ہیں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی نےبھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین آصف زرداری نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ کیس فیصلے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں جو کام سپریم کورٹ کے ججز نہیں کر سکتے وہ کام کیا وزیراعظم کے ماتحت 19گریڈ کے افسر کر سکیں گے۔ ان کا اشارہ جے آئی ٹی کی جانب تھا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے، پانامہ کیس کی سماعت کرنے والے دو سینئر ججز نے ان کے

خلاف فیصلہ دیا ہے جبکہ ن لیگ اس پر مٹھائیاں بانٹ رہی ہے، ججز کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تحت کارروائی کی جائے دوسری جانب خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ آصف زرداری نے اس موقع پر کہا کہ عمران خان کو چاہئے کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحریری فیصلہ سامنے آنے پر ہماری وکلا اس کا جائزہ لیں گے اور اس پر مناسب ردعمل ہم اسی وقت دے سکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…