بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

مشعال قتل کیس ،مرکزی ملزم وجاہت کے اعترافی بیان کے بعد یونیورسٹی ملازمین شامل تفتیش

datetime 17  اپریل‬‮  2017 |

مردان (مانیٹرنگ ڈیسک)مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں جمعرات کےروزتوہین کے الزام میں قتل ہونے والے طالب علم مشعال خان کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق مشعال قتل کیس کے مرکزی ملزم وجاہت نے عدالت میں اپنااعترافی بیان دے دیاہے ۔ملزم وجاہت کے اعترافی بیان کے بعد اب یونیورسٹی کے ملازمین کےخلاف بھی ایکشن لینے کافیصلہ کیاگیاہے اوراس ضمن میں عبدالولی خان یونیورسٹی

کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر ایجوکیشن ادریس، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن پیر اسفندیار اور اسسٹنٹ ایڈمن افسرو سیکیورٹی عنایت آفریدی کو شامل تفتیش کیاگیاہے ۔عدالت میں ملزم وجاہت نے اپنے اعترافی بیان میں کہاہے کہ مجھے یہ کام کرنے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا تھا اور انتظامیہ نےمجھے13اپریل کو چیئرمین آفس بلایا، جہاں 15 سے20 لوگ موجود تھے، چیئرمین آفس میں انتظامیہ کےعلاوہ لیکچرار ضیاء اللہ، اسفندیار ،لیکچرار انیس، سپرنٹنڈنٹ ارشد، کلرک سعید اور ادریس موجود تھے۔ملزم نے عدالت میں یہ بھی بتایاکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے مجھے کہا کہ کہو کہ مشعال ا و ر ساتھیوں نے توہین رسالت کی، یونیورسٹی انتظامیہ کے کہنے پر میں نے مشعال اور ساتھیوں کے خلاف تقریر کی۔ اگر مجھے اس سازش کا پتا ہوتا تو میں اس وقت یونیورسٹی میں نہ آتا۔ملزم وجاہت نے اپنے اعترافی بیان میں کہاکہ میں نے لوگوں کو بتایا کہ میں نے مشعال ، عبداللہ اور زبیر کو توہین کرتے سنا ، فہیم عالم نے میرے بیان کی لوگوں کے سامنے فوری گواہی دے دی۔ملزم نے انکشاف کیاکہ یونیورسٹی سیکیورٹی انچارج بلال نے مجھے کہاکہ جنہوں نے بھی مشعال خان کی طر ف داری کی ان سے بھی سختی سے نمٹاجائے گا۔اس موقع پرسیکیورٹی انچارج بلال نے کہاکہ وہ خود مشعا ل کومارے گا۔ملزم وجاہت نے اپنے اعترافی بیان میں کہاکہ اگرمیں اس وقت بیان نہ دیتاتووہاں پرجمع ہونے والے

طالب علم واپس چلے جاتے لیکن میرے بیان سے وہاں پرموجود طلبامشتعل ہوگئے ۔ملزم نے کہاکہ میں نے جوغلط بیانی کی اس پرشرمندہ ہوں ۔ملزم نے مزیدکہاکہ یونیورسٹی میں اجلاس بلانابھی انتظامیہ کامینڈیٹ نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…