جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

مشال خان کاقتل،عوامی نیشنل پارٹی نے انتہائی سخت موقف اپنا لیا،سنگین الزام عائد

datetime 16  اپریل‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مشال خان کو قتل کرنے والے انسان نہیں درندے تھے ،تنگ نظری کی سوچ کا ساتھ نہ دینے والوں کو منصوبے کے تحت راستے سے ہٹایا جا رہا ہے جو فرقہ وارانہ سیاست کی بنیاد ہے ، حکومتوں ، سیاسی جماعتوں سمیت علمائے حق کو آگے آنا ہو گا،وہ اتوار کو پی کے12یو سی بالو پبی میں ملک مشتاق کے حجرے میں ایک تنظیمی اجلاس

سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،جبکہ اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں سے اہم شخصیات نے مستعفی ہو کر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ، میاں افتخار حسین نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ معاشرے میں روشن خیال اور ترقی پسند لوگوں کو دبانے اور خاموش کرنے کیلئے منظم سازش کار فرما ہے اور اگر ہم نے اتحاو اتفاق کا مظاہرہ نہ کیا تو مستقبل میں ہمارے بچے مرتے رہیں گے ، انہوں نے کہا کہ کرسی کو خطرہ ہو تو ہر کوئی سوموٹو کا مطالبہ کرنے لگتا ہے اور اب جبکہ قوم کے مستقبل کو خطرہ ہے تو سوموٹو کا مطالبہ کرنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا ،انہوں نے کہا کہ حکومت اس سانحے سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی ،تاہم انہوں نے کہا کہ مردان سانحے کی فی الفور جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے اور ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی مردان کے مطابق مشال خان پر لگائے گئے الزام کے حوالے سے کوئی ثبوت یا مواد سامنے نہیں آیا ہے۔جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس معاملے کے پیچھے دیگر محرکات اور سازش کارفرما ہیں جو رجعت پسندانہ اور انتہا پسندانہ سوچ کو تقویت دینے کا موجب ہے اور معاشرے میں روشن خیال اور ترقی پسند لوگوں کو دبانے اور خاموش کرنے کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں علمائے حق کا کردار

نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے تاکہ معاشرے کواس قسم کی صورتحال سے نکال سکیں۔ انہوں نے مشال خان شہید کے والد کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی اپنا بیٹا کھویا ہے اور میں ان کی دلی کیفیت سمجھ سکتا ہوں ، انہوں نے کہا کہ ہم سب مشال خان کے اہل خانہ کے غم اور دکھ میں برابر کے شریک ہیں،میاں افتخار حسین نے کہا کہ باچا خان بابا نے ہمیشہ امن بھائی چارے اور عدم تشدد کا درس دیا ہے اور ہمیں یہ سبق وراثت میں ملا ہے ، انہوں نے کہا کہ سانحے کو سیاسی رنگ دینے کی بجائے جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اورواقعے کے پیچھے کار فرما خفیہ ہاتھ بے نقاب کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ، انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے مطابق اور کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی سوچ اور مرضی کے مطابق خود مدعی اور منصف بن کر بطور سزا تشدد یا قتل کر ے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز میں سامنے آئی ہوئی معلومات اور حقائق کے مطابق اس سانحے میں یونیورسٹی انتظامیہ اور بیرونی عناصر کا کردار کافی مشکوک ہو گیا ہے ۔ لہذا جوڈیشل انکوائری کے ذریعے معاملے کی شفاف تحقیقات ، ذمہ داروں کا تعین اور مجرموں کو قرار واقعی سزا انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ہو سکے۔دریں اثناء عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے مشال خان کے قتل کو دہشتگردانہ سوچ کی مذموم کاروائی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سانحے میں ملوث درندوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، وہ اتوار کو صوابی میں مشال خان کے والد سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست سے قطع نظر اس اندوہناک سانحے کے محرکات سامنے لانے کیلئے جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے اور اس کے پیچھے چھپے خفیہ ہاتھ قوم کے سامنے لائے جائیں ،

انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص سوچ رکھنے والے قوم کے مستقبل کو پیغام دے رہے ہیں کہ اگر وہ ہماری دہشتگردانہ سوچ پر نہیں چلیں گے تو ان کا مشال جیسا حال کیا جائے گا، تاہم عوام صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور باہمی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمت اور حوصلے سے کام لیں، انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے کوئی جرم کیا ہے تو اس کیلئے ملک میں قانون موجود ہے تاہم قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے ،انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جس الزام کے تحت مشال خان کو شہید کیا گیا وہ تاحال ثابت نہیں ہوا لیکن درندوں نے اپنی مخصوص کو پختگی دینے کیلئے یہ اقدام کیا، ،تاہم انہوں نے کہا کہ مردان سانحے کی فی الفور جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے اور ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی مردان کے مطابق مشال خان پر لگائے گئے الزام کے حوالے سے کوئی ثبوت یا مواد سامنے نہیں آیا ہے۔جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس معاملے کے پیچھے دیگر محرکات اور سازش کارفرما ہیں،انہوں نے کہا کہ باچا خان بابا نے ہمیشہ امن بھائی چارے اور عدم تشدد کا درس دیا ہے ، انہوں نے کہا کہ سانحے کو سیاسی رنگ دینے کی بجائے جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اورواقعے کے پیچھے کار فرما خفیہ ہاتھ بے نقاب کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ،

انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے مطابق اور کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی سوچ اور مرضی کے مطابق خود مدعی اور منصف بن کر بطور سزا تشدد یا قتل کر ے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو روز میں سامنے آئی ہوئی معلومات اور حقائق کے مطابق اس سانحے میں یونیورسٹی انتظامیہ اور بیرونی عناصر کا کردار کافی مشکوک ہو گیا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…