منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

اہم شخصیت پرجھوٹے اورمن گھڑت الزامات ، 2مشہورنجی ٹی وی چینلزکوبھاری جرمانہ ,ناضرین سے معافی معافی مانگنے کاحکم

datetime 13  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اے ڈی خواجہ کی طرف سے دائر شکایت پر پیمرا شکایات کونسل سندھ کی سفارشات کی روشنی میں نجی ٹی وی چینلز’’چینل 24-‘‘ پر تین لاکھ روپے اور ’’اب تک‘‘ پر دولاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے نیز ٹی وی چینلز انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ آئی جی اے ڈی خواجہ کے خلاف غلط اور من گھڑت خبر چلانے پر ناظرین سے معذرت بھی نشر کی جائے۔ پیمرا شکایات

کونسل کے اجلاس میں ’’چینل 24-‘‘ کے رپورٹر ظلِ حیدر کی طرف سے مورخہ 18دسمبر 2016ء کو ایک رپورٹ میں اور ’’اب تک ‘ ‘ کے پروگرام ’’بے نقاب‘‘ بتاریخ 22دسمبر 2016ء میں اینکر سیفان خان کی جانب سے اے ڈی خواجہ پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات عائد کرنے کی شکایات کی سماعت ہوئی ۔شکایت گزار کی طرف سے ایڈیشنل آئی جی پولیس سندھ نعیم احمد اور پی آر او سہیل احمد جوکھیو پیش ہوئے جبکہ ’’چینل 24-‘‘ کی نمائندگی کنٹرولر نیوز ریحان ہاشمی نے کی ۔ ’’اب تک ‘‘ کی طرف سے سیفان خان، سلیم رضا اور فیضان طارق پیش ہوئے۔ فریقین کا موقف سننے کے اور الزامات کا جائزہ لینے کے بعد کونسل ممبران اس نتیجہ پر پہنچے کہ مذکورہ رپورٹ نشر کر کے چینلزنے نہ صرف اپنی ادارتی اور پیشہ وارانہ ذمہ داری کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ پیمرا قوانین سے بھی انحراف کیا ہے ۔ کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ’’چینل 24-‘‘پر 3لاکھ روپے جبکہ ’’اب تک ٹی وی‘‘ پر 2لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے اور چینلز انتظامیہ کو یہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہِ اس فیصلے کے جاری ہونے کے سات روز میں دونوں چینلز کی طرف سے شام 6بجے کی خبروں میں شکایت گزار کا نام لے کر ناظرین سے معذرت طلب کی جائے اور اس دوران یہ معذرت تحریر ی صورت میں بھی (شام 6تا7بجے )سکرین پر واضح انداز میں بار بار دکھائی جائے ۔

چینلزانتظامیہ کوانتباہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسی کسی بھی خلاف ورزی سے اجتناب کریں ۔پیمرا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے بچنے کے لئے تاخیر ی نظام time-delay mechanism موثر طور پر نافذ کرنے اور ادارہ جاتی نگران کمیٹی کی تشکیل کی بھی ہدایت کی گئی ہے ۔ حکم عدولی کی صورت میں پیمرا قوانین کے تحت چینلزکا لائسنس منسوخ کرنے کی کاروائی کی جاسکتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…