جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ادویات کا کاروبار،خیبرپختونخوا میں انقلابی تبدیلی،منظوری دیدی گئی

datetime 17  مارچ‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور( آ ئی این پی)محکمہ قانون خیبر پختونخوا نے محکمہ صحت کی طرف سے ڈرگ رولز 1982میں تجویز کردہ ترامیم کے مسودے کی منظوری دے دی ہے جسے عنقریب حتمی منظوری کے لئے وزیر اعلی کوارسال کردیا جائے گا۔ مذکورہ رولز میں تجویز کردہ ترامیم کے مطابق صوبے میں میڈیکل اسٹورز ، ٖفارمیسی شاپس اور ہول سیل اسٹوررز چلانے اور ادویات کی خریدو فروخت کے لئے نئے معیار اور قواعدو ضوابط وضع کئے

گئے ہیں۔ ان قواعدو ضوابط کی رو سے میڈیکل اسٹوراور فارمیسی میں ادویات بیچنے والے شخص کا متعلقہ ادارے سے لائسنس یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ فارمیسی کے شعبے میں گریجویٹ یا ڈپلومہ ہولڈر ہونا لازمی قرار دیا گیاہے جبکہ ہول سیل کی دوکانوں میں صرف فارمیسی میں گریجویٹ اور لائسنس یافتہ شخص ہی ادویات فروخت کرسکے گا ۔ جس وقت بھی میڈیکل اسٹور ، فارمیسی یا ہول سیل اسٹور کھلا ہو گا وہاں پر مذکورہ بالااہلیت کے حامل شخص کی موجودگی لازمی ہوگی ۔نئے تجویز کردہ ترامیم کے مطابق فارماسو ٹیکل کمپنیوں اور مینو فیکچررز کو بھی اس بات کا پابند بنا دیا گیا ہے کہ وہ صرف اُن میڈیکل اسٹورز ، فارمیسی شاپس اور ہول سیل اسٹورز کو ادویات سپلائی کریں گے جہاں پر متعلقہ شعبے کے کوالیفائیڈ ، رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ لوگ ادویات بیچنے کا کام کرتے ہوں ۔ میڈیکل اسٹورز، فارمیسی شاپس اور ہول سیل اسٹورز چلانے والوں کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنا لائسنس اور رجسٹریشن سرٹیفیکیٹس اسٹور ز میں نمایاں جگہوں پر آویزاں کریں ۔ نئی ترامیم میں میڈیکل اسٹورز، فارمیسی شاپس اور ہول سیل اسٹورز کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ اُن کی ساخت اور سائز رولز میں تجویز کردہ معیار کے عین مطابق ہونگے ، وہ موسمی اثرات یعنی دھوپ اور بارش کے اثرات اور دھول وغیرہ سے محفوظ ہونگے، وہاں پر صفائی کا خاص اہتمام ہوگا اور حساس قسم کی

ادویات کو موسمی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے مناسب درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کا خاص انتظام ہوگا۔فارماسسٹس کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ مخصوص اور حساس قسم کی ادویات ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر کسی کو بھی فروخت نہیں کریں گے علاوہ ازایں میڈیکل اسٹورز ، فارمیسی شاپس اور ہول سیل اسٹورکیلئے الگ الگ رنگ کے سائن بورڈز کی تنصیب کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے مطابق میڈیکل اسٹور کے سائن بورڈ کا رنگ سبزبمعہ سفید لکھائی ،

فارمیسی کے سائن بورڈ کا رنگ سرخ بمعہ سفید لکھائی جبکہ ہول سیل اسٹورکے سائن بورڈ کا رنگ نیلا بمعہ کالی لکھائی لازمی ہوگی ۔ مجوزہ ترامیم کے مطابق اضلاع میں تعینات ڈرگ انسپکٹرز کو بھی اس بات کا پابند بنادیا گیا ہے کہ وہ درخواست گزاروں کو مقررہ وقت کے اندر اندرلائسنس جاری کریں گے اور مقررہ وقت کے اندر لائسنس کی تجدید بھی کریں گے ۔واضح رہے کہ دڑگ ایکٹ کے سیکشین 44 کے تحت ڈرگ رولز بنانے اور اس میں ترامیم کا اختیار صوبائی حکومتوں کو حاصل ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…