پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

موسمیاتی تغیرات کے باعث اگلے چند سالوں میں پاکستان سےکونسا موسم ختم ہو جائے گا ؟

datetime 7  مارچ‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی) محکمہ موسمیات نے موسمیاتی تغیرات (کلائمٹ چینج)کے شدید ترین اور نہایت تشویشناک پہلو سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگلے چند سالوں میں پاکستان سے موسم بہار کا خاتمہ ہوجائے گا۔محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے (گلوبل وارمنگ)کی وجہ سے پاکستان کا درجہ حرارت بھی بڑھ چکا ہے۔ اب موسم سرما کے بعد فورا بعد موسم گرما زور پکڑ جائے گا، یوں دونوں

 

موسموں کے درمیان کا وقفہ جسے بہار کا موسم کہا جاتا ہے بہت مختصر سا ہوگا جو نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ماہرین کے مطابق موسم بہار میں پھولوں کے کھلنے اور ان کے افزائش پانے کی مخصوص مدت مختصر ہوجائے گی یوں ہم آہستہ آہستہ کھلتے ہوئے پھولوں اور موسم بہار کا جوبن دیکھنے سے محروم ہوجائیں گے۔ماہرین نے اس کی وجہ موسمی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج اور اس کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے یعنی گلوبل وارمنگ کو قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کلائمٹ چینج کے نقصانات کے حوالے سے پاکستان پہلے 10 ممالک میں شامل ہے۔چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق پاکستان میں موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج کے اثرات گزشتہ برس اگست کے بعد سے واضح طور پر سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ کلائمٹ چینج ہی کی وجہ سے اس بار موسم سرما کے معمول میں تبدیلی ہوئی اور جنوری کے آخر میں شدید سردیوں کا آغاز ہوا۔تاہم اب اس کی وجہ سے کسی ایک موسم کا سرے سے ختم ہوجانا نہایت تشویشناک امر ہے۔موسمیاتی تغیر کی وجہ سے موسموں کے طریقہ کار(پیٹرن)میں تبدیلی کا عمل سہنے والا پاکستان واحد ملک نہیں۔ گزشتہ برس ایک امریکی تحقیق کے مطابق امریکا میں موسم خزاں کا دورانیہ بھی کم ہورہا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کے باعث اب سردیوں میں موسم کی شدت کم ہوگی جبکہ موسم گرما بھی اپنے وقت سے پہلے آجائے گا یعنی خزاں کا دورانیہ کم ہوگا اور پھولوں کو مرجھانے اور پتوں کو گرنے کا ٹھیک سے وقت نہ مل سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…