پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

’’ان دو گواہوں کو پاک ، بھارت بارڈر پر تعینات کر دیا جائے‘‘

datetime 6  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن ) سپریم کورٹ نے دوہرے قتل کے الزام میں 20 سال سے پابند سلاسل رہنے والے ملزم محمد اکرم کو انصاف فراہم کر دیا ، ملزم کو ہائی کورٹ کی جانب سے دو بار سزائے موت سنائی گئی تھی ، پیر کو کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ، جسٹس دوست محمد اور جسٹس سردار طارق مسعود پر مشتمل بنچ نے کی ، ملزم کی جانب سے عبدالحق ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایڈیشنل

پراسکیوٹر جنرل چوہدری محمد وحید نے سرکار کی جانب سے دلائل دیئے ، مقدمے کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس مقدمے جو گواہ پیش ہوئے انہیں کسی دوربین کی ضرورت نہیں ہے ، حیرانگی ہے گواہان نے چھ کنال کے فاصلے سے اندھیر کے باوجود زخم بھی دیکھ لیے ، ریکارڈ سے لگتا ہے گواہوں نے سچ نہیں بولا ہے ، جب سچ نہیں بولا جائے گا تو انصاف کیسے ہو گا ، جبکہ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ اگر ان گواہوں کی نظر اتنی تیز ہے کہ وہ چھ کنال کے فاصلے پر اندھیرے کے باوجود سب کچھ صاف صاف دیکھ سکتے ہیں تو پھر ان کو ہندوستان کے بارڈر پر تعینات کر دینا چاہیے تاکہ ہندوستانی فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکیں ، جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ گواہوں کی بات قابل یقین نہیں ہے اور نہ ہی تسلیم کر سکتے ہیں ،افسوس ہے کہ دو عدالتوں کو یہ نقاط کیوں نہیں نظر آئے ہم نے بھی یہ پوائنٹ ریکارڈ سے اٹھائے ہمیں الہام تو نہیں ہوا ، یاد رہے کہ ملزم پر1996میں پنجاب کے علاقے چنڈو بصیر پور اکاڑہ میں فخر حیات اور نیاز احمد کو قتل کرنے کا الزام تھا جس پر ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو دو بار سزائے موت سنائی گئی تھی جسے ہائی کورٹ نے بھی کنفرم کردیا تھا ، جبکہ عدالت عظمیٰ نے جرم ثابت نہ ہونے کی بنیاد پرہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ملزم کو بری کریے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیدیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…