اتوار‬‮ ، 25 جنوری‬‮ 2026 

’’ان دو گواہوں کو پاک ، بھارت بارڈر پر تعینات کر دیا جائے‘‘

datetime 6  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن ) سپریم کورٹ نے دوہرے قتل کے الزام میں 20 سال سے پابند سلاسل رہنے والے ملزم محمد اکرم کو انصاف فراہم کر دیا ، ملزم کو ہائی کورٹ کی جانب سے دو بار سزائے موت سنائی گئی تھی ، پیر کو کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ، جسٹس دوست محمد اور جسٹس سردار طارق مسعود پر مشتمل بنچ نے کی ، ملزم کی جانب سے عبدالحق ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایڈیشنل

پراسکیوٹر جنرل چوہدری محمد وحید نے سرکار کی جانب سے دلائل دیئے ، مقدمے کے آغاز پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس مقدمے جو گواہ پیش ہوئے انہیں کسی دوربین کی ضرورت نہیں ہے ، حیرانگی ہے گواہان نے چھ کنال کے فاصلے سے اندھیر کے باوجود زخم بھی دیکھ لیے ، ریکارڈ سے لگتا ہے گواہوں نے سچ نہیں بولا ہے ، جب سچ نہیں بولا جائے گا تو انصاف کیسے ہو گا ، جبکہ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ اگر ان گواہوں کی نظر اتنی تیز ہے کہ وہ چھ کنال کے فاصلے پر اندھیرے کے باوجود سب کچھ صاف صاف دیکھ سکتے ہیں تو پھر ان کو ہندوستان کے بارڈر پر تعینات کر دینا چاہیے تاکہ ہندوستانی فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکیں ، جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ گواہوں کی بات قابل یقین نہیں ہے اور نہ ہی تسلیم کر سکتے ہیں ،افسوس ہے کہ دو عدالتوں کو یہ نقاط کیوں نہیں نظر آئے ہم نے بھی یہ پوائنٹ ریکارڈ سے اٹھائے ہمیں الہام تو نہیں ہوا ، یاد رہے کہ ملزم پر1996میں پنجاب کے علاقے چنڈو بصیر پور اکاڑہ میں فخر حیات اور نیاز احمد کو قتل کرنے کا الزام تھا جس پر ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو دو بار سزائے موت سنائی گئی تھی جسے ہائی کورٹ نے بھی کنفرم کردیا تھا ، جبکہ عدالت عظمیٰ نے جرم ثابت نہ ہونے کی بنیاد پرہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ملزم کو بری کریے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیدیا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…