پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کس اہم صوبے نے پی او ایف واہ کی بکتر بند گاڑیاں لینے سے انکار کردیا اورباہرسے بکتر بند گاڑیاں منگوائیں؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 3  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے وزارت دٖفاعی پیداوار کا بجٹ وزارت دفاع سے الگ کرنے اور وزارت کی ضروریات کو مدنظر رکھ کربجٹ تیار کرنے کی سفارش کر دی، کمیٹی نے وزارت سے آئندہ 3سے 5سالوں کی بجٹ ضروریات کے حوالے سے جامع پلان بھی طلب کر لیا، کمیٹی نے ہدایت کی کہ پانچ سے دس روپے کے سکے بھی براس مل میں بنائے جائیں اور دیگر ممالک کیلئے سکے ڈھال کر زرمبادلہ کمایا جائے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر عبدالقیوم کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں ممبران کمیٹی سینیٹر ستارہ ایاز، سینیٹر عتیق شیخ، نزہت صادق، سینیٹر پرویز رشید، سینیٹر سحر کامران، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین، سیکرٹری وزارت،چیئرمین پاکستان آرڈیننس فیکٹری لیفٹیننٹ جنرل عمر حیات سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ واہ آرڈیننس فیکٹری، کامرہ اور شپ یارڈ بہت اچھا کام کر رہی ہیں، ہمیں اپنے دفاعی پیداوار کے اداروں پر فخر ہے۔وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا کہ دفاعی پیداوار کی وزارت کو زیادہ فنڈز درکار ہیں، دفاعی پیداوار میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کیلئے بھی فنڈز رکھے جانے چاہئیں۔چیئرمین پاکستان آرڈیننس فیکٹری لیفٹیننٹ جنرل عمر حیات نے کہا کہ ہم اپنے دفاعی اداروں کو ہتھیار کمرشل بنیادوں پر فروخت نہیں کرتے، بجٹ میں ڈال دیتے ہیں، پی او ایف کے پاس ٹیکس کنسلٹنٹ نہیں تھا، اب ہم نے ہائر کیا ہے۔ سیکرٹری دفاعی پیداوار نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے دفاعی پیداواری ادارے کو کمرشل بنیادوں پر چلایا جائے۔چیئرمین پی او ایف نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس ہماری ایکسپورٹ 93.5 ملیں ڈالر تھی جو ایک سال پہلے پچاس ملین تھی، اس سال ہماری ایکسپورٹ کا ہدف ایک سو پچاس ملین ڈالر ہے،اگر ہم کوئی ادارہ منافع بخش نہ ہونے پر بند کر دیں تو پچاس سال میں بنایا گیا ادارہ ختم ہو جائے گا۔

چیئرمین پاکستان آرڈیننس فیکٹری لیفٹیننٹ جنرل عمر حیات نے کمیٹی کو براس مل واہ پر بریفنگ براس مل کو 9 کروڑ ڈالر کی لاگت سے اپ گریڈ کیا جارہا ہے، اپ گریڈیشن کے بعد مل کی پیداواری صلاحیت 24 ہزار میٹرک ٹن ہوجائے گی، ملک میں براس( پیتل) کی کھپت 50 ہزار میٹرک ٹن ہے،مناسب معیار کا پیتل ملک میں نہ بننے کی وجہ سے گزشتہ تین سال میں 60 کروڑ ڈالر کا اسلحہ ملک کو درآمد کرنا پڑا، دفاعی صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے بعد آٹھ ہزار ٹن مقامی مارکیٹ میں فروخت کیا جائے گا،پیتل کی مقامی صنعت کے تحفظ کیلئے پیتل کی درآمدات پر ڈیوٹی عائد کی جانی چاہیے۔کمیٹی نے پیتل کی مقامی صنعت کے فروغ کے لئے پیتل کی درآمد ڈیوٹی کے نفاذ کی سفارش کردی۔

کمیٹی نے ہدایت کہ پانچ سے دس روپے کے سکے بھی براس مل میں بنائے جائیں اور دیگر ممالک کیلئے سکے ڈھال کر زرمبادلہ کمایا جائے۔ وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار نے بتایا کہ ملک میں فوج کی ضروریات کیلئے روایتی اسلحہ اور گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں، ہماری تیار کی گئی بکتر بند گاڑیاں فوج کے علاوہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زیر استعمال ہیں،

پنجاب نے پی او ایف واہ کی بکتر بند گاڑیاں لینے سے انکار کردیا ہے، پنجاب حکومت نے ترکی سے بکتر بند گاڑیاں منگوائی ہیں۔ رکن کمیٹی سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ حکومت پنجاب کے، ترکی سے بکتر بند گاڑیاں منگوانے کے اقدام کو مشترکہ مفادات کونسل سے اٹھایا جائے اور وجہ دریافت کی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے تمام اہداف حاصل کرنے پر وزارت دفاعی پیداوار کی تعریف کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…