پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ،اعتزازاحسن نے بڑی پیش گوئی کردی

datetime 25  فروری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی)پیپلزپارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا اپنے دفاع میں قطری شہزادے کا خط نہیں مانا جائے گا‘ اگر قطری خط مانا گیا تو ہر غلط کام کرنے والا کسی نہ کسی عرب ملک سے خط لے آئے گا‘ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے ساتھ رعایت برتی‘ وزیراعظم کو عدالت میں طلب کیا جانا چاہیے تھا

سپریم کورٹ کے نیب سے متعلق بیان پر افسوس ہے‘ سپر یم کو رٹ وزیر اعظم کو طلب کرتی اور لندن فلیٹس کی ملکیت کے حوالے سے سوالات پوچھے جاتے‘ اگر پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں نہ ہوا تو یہ حکومت کی ناکامی ہو گی۔لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ پاناما کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے تاہم وزیراعظم نوازشریف نے شریف فیملی کے لندن فلیٹس کا مالک ہونے کا اعتراف کیا تھا اور سپریم کورٹ کو وزیر اعظم کو طلب کر کے سننا چاہیے تھا اور فلیٹس کی ملکیت کے حوالے سے سوالات کرنے چاہیے تھے‘قطری ، ایرانی اور متحدہ عرب امارات کے خطوط ملک کو مالی انتشار کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا موقف تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی عدالت کو یہ موقف تسلیم کرنا چاہیئے کیونکہ اگر عدالت نے یہ وضاحت تسلیم کر لی تو ملک میں مالی انتشار پیدا ہو جائے گا ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عدالت نیب کے سامنے لاچار نظر آئی ۔ نیب کے حوالے سے عدالت کے ریمارکس کہ نیب ہمارے سامنے فوت ہو گیا بدقسمتی کی بات ہے ۔سپریم کورٹ کو چاہیے تھا کہ مردہ نیب کو زندہ کر تی ۔ اگر پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں منعقد نہیں ہوتا تو یہ حکومت کی ناکامی تصور ہو گی ۔انہوں نے بار ایسوسی ایشنز میں سیکیورٹی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی شناختی کارڈ اور بار کا ممبر شپ کارڈ دکھاکر اندر آنے دیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…